1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. ماکولات و مشروبات

جو مچھلی خود مرجائے اس کا کھانا کیسا ہے؟

سوال

عرض خدمت یہ ہے کہ مچھلی کے حرام ہونے کی کوئی شکل ہے یا نہیں؟ میں نے سنا تھا کہ مچھلی بذات خود اپنی موت مرجائے تو وہ حرام ہوگی۔ صحیح جواب عنایت فرمائیں ۔ مہربانی ہوگی جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 622-497/SN=07/1440
مچھلی اپنی تمام قسموں سمیت حلال ہے۔ ہاں جو مچھلی طبعی موت مر کے سطحِ آب پر الٹی تیرنے لگے، اس کا کھانا جائز نہیں۔
فی الدر: ولا یحل حیوان مائي إلا السمک الذي مات بآفة ولو متولداً في ماء نجس ولو طافیة مجروحة ، وہبانیة ۔ غیر الطافي علی وجہ الماء الذي مات حتف أنفہ ، وہو ما بطنہ من فوق ، فلو ظہرہ من فوق فلیس بطاف ، فیوٴکل الخ (۹/۴۴۴-۴۴۵، ط: زکریا، کتاب الذبائح ۔ نیز: ہندیة: ۵/۳۳۳، ط: الاتحاد ، کتاب الذبائح ) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169086
تاریخ اجراء :Mar 13, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ