1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. ماکولات و مشروبات

مشتركہ كاروبار كرنے والے جن میں سے كسی كی آمدنی حرام ہو ان كے یہاں كھانا كیسا ہے؟

سوال

میں سعودی میں رہتاہوں، یہاں پر میرے گاؤں کے کچھ اور بھی لڑکے ہیں، وہ موبائل رپیئرنگ کا کام کرتے ہیں، وہ لوگ یہ کام کرتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی موبائل ٹھیک ہونے کے لیے آجاتاہے تو وہ اس کی چیزیں مثلاً کیمرہ ، بیٹری ، اسپیکر، ایل ای ڈی، یا ٹچ وغیرہ نکال کر دوسرے میں لگا دیتے ہیں اور گراہک کو بول دیتے ہیں کہ ٹھیک نہیں ہوا، واپس لے جاؤ، پھر اس نکالی ہوئی چیز کو دوسرے گراہک کے موبائل میں ڈال کر پیسے لے لیتے ہیں، پانچ میں سے تین کا یہ کام ہے، اور وہ لوگ کھانا سب ساتھ میں بناتے ہیں ، مطلب مہینے میں سب خرچ جوڑ کر تقسیم کرلیتے ہیں کہ ایک کے حصے میں اتنے روپئے آئے، تو اب ان کی اس کمائی کے بارے میں اور ان کے یہاں کھانا کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:583-513/L=6/1440
کسی کے موبائل سے کچھ اشیاء نکال کردوسرے کے ہاتھ فروخت کردینا ناجائز وحرام ہے اور اس سے حاصل آمدنی بھی حرام ہے ،اگر ان لوگوں کی غالب آمدنی اسی طریقے سے حاصل ہے تو ان کے ساتھ مل کر کھانا جائز نہ ہوگا اور ان کی آمدنی کا غالب حصہ اس طور کی کمائی سے حاصل نہیں ہے ؛بلکہ دوسرے جائز طریقے سے حاصل ہے تو ان کے ساتھ کھانے کی گنجائش ہوگی ؛البتہ اصلاح کی نیت سے ان کے ساتھ کھانے سے احتراز کرنا بہتر ہوگا ۔
وفی الروضة یجیب دعوة الفاسق والورع أن لا یجیبہ ودعوة الذی أخذ الأرض مزارعة أو یدفعہا علی ہذا، کذا فی الوجیز للکردری.آکل الربا وکاسب الحرام أہدی إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لا یقبل، ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ، وإن کان غالب مالہ حلالا لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا، کذا فی الملتقط.(الفتاوی الہندیة 5/ 343، الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :168379
تاریخ اجراء :Feb 18, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ