1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. ماکولات و مشروبات

محض افواہوں سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی

سوال

آج کل ہوٹلوں میں ایک نمک کا استعمال کافی بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے جس کا نام اجینو موٹو (چاینیز نمک) ہے ۔ اسکا کیمیائی نام (مونو سوڈیم گلوٹمیٹ) ہے ۔ مختصر میںMSG کہا جاتا ہے ۔ یہ کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ میں نے کھانے کی صنعت کے لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اجینو موٹو کو بنانے کا سب سے سستا طریقہ سور کی چربی سے بنانے کا ہے ۔ اگر اسے بنانے کے لئے سبزیوں کا استعمال کیا جاے گا تو قیمت بہت زیادہ ہو جائے گی۔ ایم ایس جی بنا کسی لیبل کے بڑے بڑے بیگوں میں چین سے آتا ہے ۔ اور عوام کثیر تعداد میں اس سے بنے بازاری کھانوں میں ملوث ہے ۔ براہ کرم اس مسلہ پر روشنی ڈال کر مشکور فرمایئے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:192-155/L=2/1440
اگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کے اس نمک میں سور کی چربی ڈالی جاتی ہے تو جب تک اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ خنزیر کی چربی کی حقیقت وماہیت کو کسی کیمیاوی عمل کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا گیا ہے تو اس کا کھانا ناجاٹز وحرام ہوگا،اور اگر یہ بات کہ اس میں خنزیر کی چربی ڈالی جاتی ہے تحقیق سے ثابت نہیں تو محض افواہوں سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :166057
تاریخ اجراء :Nov 3, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ