1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. ماکولات و مشروبات

کیا اسلام میں مچھلی کی کوئی قسم حرام ہے؟

سوال

کیا کوئی مچھلی بھی ایسی ہے جس کا کھانا اسلام میں حرام ہے؟ براہ کرم، اس موضوع پر روشنی ڈالیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:789-663/N=9/1440
اسلام میں مچھلی کی کوئی قسم حرام نہیں؛ البتہ جو مچھلی طبعی موت مرکر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگے، وہ مکروہ وناجائز ہے، نیز بعض دریائی جانوروں کے سلسلہ میں علما کا اختلاف ہوا ہے، بعض اسے مچھلی کی قسم مان کر جائز کہتے ہیں اور بعض کیڑا مان کر ناجائز کہتے ہیں، جیسے: جھینگا۔
ولا یحل حیوان مائي إلا السمک الذي مات بآفة ولو متولداً في ماء نجس ولو طافیة مجروحة، وھبانیة، (غیر الطافي) علی وجہ الماء الذي مات حتف أنفہ وھو ما بطنہ من فوق، فلو ظھرہ من فوق فلیس بطاف فیوٴکل کما یوٴکل ما في بطن الطافي، ………وحل …أنواع السمک بلا ذکاة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الذبائح، ۹: ۴۴۴- ۴۴۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ولایوٴکل من حیوان الماء إلا السمک بأنواعہ کالجریث والمارماھي ولا یوٴکل الطافي منہ (ملتقی الأبحر مع المجمع والدر، کتاب الذبائح، ۴: ۱۶۲، ۱۶۳، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170242
تاریخ اجراء :May 19, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ