1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صوم (روزہ )

کسی کے ذمہ رمضان کے بہت سے روزوں کی قضا ہو اور ایک ساتھ اتنے سارے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو اور آہستہ آہستہ روزے پورے کرنے میں بہت سال لگ جائیں گے، تو کیا وہ کچھ روزوں کی قضا غریبوں کو کھانا کھلا کر پورے کرسکتے ہیں؟ ایک روز

سوال

کسی کے ذمہ رمضان کے بہت سے روزوں کی قضا
ہو اور ایک ساتھ اتنے سارے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو اور آہستہ آہستہ روزے پورے
کرنے میں بہت سال لگ جائیں گے، تو کیا وہ کچھ روزوں کی قضا غریبوں کو کھانا کھلا
کر پورے کرسکتے ہیں؟ ایک روزہ کے لیے کتنا فدیہ دینا ہوگا؟


جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1402=1402/1430/م
 
جب تک روزہ رکھنے کی طاقت رہے، قضاء روزوں
کا فدیہ ادا کردینا کافی نہیں، بلکہ روزہ رکھنا ہی واجب ہے چاہے آہستہ آہستہ پورے
کرنے میں عرصہ لگ جائے، ہاں جب آدمی مرض وفات میں مبتلا ہوجائے اور روزہ رکھنے کی
طاقت نہ رہے تو جتنے روزہ ذمہ میں باقی رہ گئے ہیں، ان کا فدیہ ادا کردے یا فدیہ
کی وصیت کرجائے،ایک روزہ کا فدیہ ایک نماز کے فدیہ کے برابر ہے یعنی ڈیڑھ کلو
چوہتر گرام چھ سو چالیس گرام (1.57464 Kg )گیہوں یا اس کی قیمت۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :15488
تاریخ اجراء :کسی کے ذمہ رمضان ª

فتوی پرنٹ