1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. زکاة و صدقات

شادی شدہ عورت کو زکاة اور سود کی رقم دینا؟

سوال

سود اور زکات کا پیسہ ایسی عورت کو دینا جس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہو۔
ایک شادی شدہ عورت جس کو اس کے خاوند نے عورت کے میکے چھوڑ دیا ہو کہ میں اب تمہیں کبھی نہیں رکھوں گا، اور نہ ہی خرچا دیتا ہو اور گھر والے بھی اس کے خرچے سے پریشان ہوں یعنی اس کا خرچ صحیح سے نہ اٹھا پارہے ہوں اور اس عورت کے نام بھی کچھ نہ ہو اور کچھ کمانے کا ذریعہ بھی نہ ہو تو کیا اسے زکات کا پیسہ دے سکتے ہیں اور سود کا پیسہ ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:601-547/H=5/1439
اگر وہ عورت صاحبِ نصاب نہیں ہے اور خاندانِ سادات سے بھینہیں ہے اور غریب مفلوک الحال ہے الغرض اگر وہ مستحق زکات ہے تو اس کو زکاة اور بینک سے حاصل شدہ سودی رقم دیدیں تو جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :158471
تاریخ اجراء :Feb 5, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ