1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. زکاة و صدقات

ایك شخص كچھ سال پہلے صاحب نصاب تھا اب نہیں ہے‏، تو كیا زكاۃ نكال سكتا ہے؟

سوال

(۱) اگرکسی کے پاس ۵۱یاکچھ سال پہلے نصاب کے بقدر سونا تھا لیکن (۲)کچھ دن بعد نصاب کے بقدر سونا نہیں بچا ۔ تو اب وہ اس کی زکاة نکال سکتا ہے پہلے والے نصاب کے بقدر کیوں کہ (۳) اب اس کے پاس سونا نہیں بچا تو اس حالت میں کیا کرے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 932-153/D=10/1438
آپ کا سوال واضح نہیں ہے، کس مال کی زکاة نکالنے کا سوال کررہے ہیں:
(الف) ۱۵/ سال پہلے جب نصاب کے بقدر سونا تھا اس کی پچھلی زکاة؟
(ب) کچھ دن بعد جب نصاب کے بقدر سونا نہیں بچا اس کی؟
اگر الف سے متعلق سوال ہے تو جواب یہ ہے کہ جب آپ نصاب کے بقدر سونے کے مالک تھے اس وقت سال پورا ہونے پر زکاة آپ پر واجب ہوگئی تھی اور جتنے سال تک بقدر نصاب کے آپ مالک رہے اتنے سال کی زکاة آپ پر واجب ہے، اگر آپ پچھلی زکاة اس وقت نکالنا چاہتے ہیں تو اس قدر سونے کی موجودہ وقت میں جو قیمت بنتی ہو اس کا چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) ادا کردیں پھر بعد کے سال میں سونے میں سے اتنا وزن کم کردیں جتنا پہلے سال میں ادا کرچکے ہیں، اسی طرح ان تمام سالوں کا حساب کرلیں جنکی زکاة آپ نے ادا نہیں کی ہے۔
اگر (ب) سے متعلق ہے تو اگر نصاب کے بقدر سونا نہیں بچا لیکن چاندی، نقد رقم، مال تجارت وغیرہ میں سے کچھ رہا ہو جسے ملاکر ۶۱۲گرام ۳۶۰ملی گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تو بھی زکاة واجب ہوگی۔
(۳) اب اگر سونا اس کے پاس نہیں بچا تو کیا نقد رقم مال تجارت یا چاندی سب ملاکر اس قدر موجود ہیں کہ ۶۱۲گرام ۳۶۰ملی گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے اگر ہوجاتا ہے تو بھی زکاة واجب ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :152487
تاریخ اجراء :Jul 23, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ