1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

بنیت طلاق کنائی الفاظ لکھنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

سوال

۱- کتابت کے ذریعہ سے طلاق باالفاظ کنایہ ہوتی ہے یا نہیں؟
۲- اگر کسی شخص نے تین لکیریں لکھیں اور اس کا مطلب طلاق تہا توپہر اس سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:68-64/D=2/1439
(۱) بنیت طلاق کنائی الفاظ لکھنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے: وأراد اللفظ ولو حکمًا لیدخل الکتاب المستبینة (۴/۴۲۱، شامی زکریا)
(۲) زبان سے تلفظ کیے بغیر نیتِ طلاق صرف اس طرح لکیر کھینچنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ یہ نہ تو طلاق کے لیے صریح ہے اور نہ کنایہ: وفي الرد: وبہ ظہر أن من تشاجر مع زوجتہ فأعطاہا ثلاثة أحجار ینوي الطلاق ولم یذکر لفظًا صریحًا ولا کنایةً لا یفع علیہ کما أفتی بالخیر الرملي وغیرہ․ (شامی: ۴/۴۳۱، زکریا دیوبند)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :155374
تاریخ اجراء :Nov 19, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ