1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

بلا نیت ”اپنے گھر چلی جا“ سے طلاق؟

سوال

میں اکثر اپنی بیوی کو کہا کرتا تھا کہ؛ ” اپنی گھر چلی جا“،” اپنے گھر جاکے مجھ سے باضابطہ طورپر خلع لے لو” ،” اپنی امی ابو سے بات کرکے مجھ سے خلع لے لو“۔وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے اور میں بھی اس سے بہت زیادہ محبت کرتاہوں، لیکن کبھی کبھار وہ کچھ مسائل میں زیادہ سخت ہوجاتی ہے جس کی ہمارے درمیان جھگڑے ہوجاتے ہیں، اس لیے وہ کبھی نہیں جھوکتی ہے، مجھے بھی نہیں چھوڑتی ہے، لہذا ، اس کو خاموش کرنے کے لیے یہ سب میرے آخرے جملے ہوتے ہیں۔ جواب میں وہ کہتی ہے کہ وہ کبھی اپنے والدین کے گھر نہیں جائے گی، یا وہ تو مر جائے گی یا میں اس کو طلاق دیدوں؟اس لیے میں بار بار دہراتا ہوں کہ ؛ ”میں تم کو طلاق نہیں دو ں گا“،”بس تم اپنے گھر چلی جاؤ“۔
براہ کرم، بتائیں کہ کیا ہم پر کوئی عدت ہے؟اگر ہاں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ہمارے پاس کتنے اختیار ات (آپشن ) ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 314-271/H=4/1438
 
”اپنے گھر چلی جا“ ”مجھ سے باضابطہ طور پر خلع لے لو“ ان جیسے جملے اگر طلاق کی نیت سے نہیں بولے تو کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہ ہوئی اور جب طلاق واقع نہ ہوئی تو عدت کا بھی حکم نہیں ہے الغرض اگر اب تک کسی قسم کی طلاق بیوی کو نہیں دی تو آپس میں مل جل کر حسن معاشرت سے گذر بسر کرتے رہیں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہیں، آئندہ دونوں ہی اپنی اپنی زبان کو نامناسب بات کہنے سے روکتے رہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، اتباعِ سنت اور فکر آخرت کو نصب العین بنائے رکھیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :146596
تاریخ اجراء :Jan 4, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ