1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

بیوی كو ڈرانے كے لیے جھوٹا طلاق نامہ تیار كرانا

سوال

ایک شخص کی اپنی بیوی سے کسی ناراضگی کے سبب معمولی ان بن ہوگئی ، شوہر نے وکیل کے کہنے پر قانونی کارروائی کے ڈر سے جھوٹا طلاق نامہ تیار کروایا جس میں بالتفصیل یہ لکھوایا کہ میں نے بیوی کو الگ الگ تاریخوں میں طلاق دی ہے، یہ طلاق نامہ تیار ہوا، اس کے بعد شوہر نے اس جھوٹے طلاق نامہ کو اپنے پاس رکھ لیا، دونوں میں معاملات صحیح ہوگئے اور ازدواجی رشتے بھی قائم ہوئے، پھر کچھ دنوں بعد ناراضگی بڑھی اور اب معاملہ تھانے تک پوچھا، شوہر نے بھی اپنے بچاؤ کے لیے وہی طلاق نامہ جو پہلی تیار کر کے رکھ لیا تھا ، دکھایا، لیکن کبھی دل سے طلاق دینے کا ارادہ تک نہیں کیا، اب دونوں تعلقات صحیح کرنا چاہتے ہیں اور شوہر بھی دوبارہ رکھنے کے لیے تیار ہے۔
مذکورہ صورت میں دونوں کا پھر شتہ قائم کرنا کیسا ہے؟براہ کرم، مفصل اور مدلل جواب دیں۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 1233-1248/L=10/1436-U
صورت مسئولہ میں جب تک شوہر طلاق نامہ کو چھپائے ہوئے تھا اس وقت تک جھوٹے اقرار کے سلسلے میں دیانةً اس کی بات معتبر ہوئی اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ ہوتا؛ لیکن جب شوہر نے طلاقنامہ بیوی کو دکھادیا تو اب یہ معاملہ دیانت سے نکل کر قضا میں داخل ہوگیا اب شوہر کی بات کا اعتبار نہ ہوگا؛ بلکہ طلاق نامہ میں صراحت کے مطابق بیوی پر طلاق واقع ہوگئی اگر اس میں مختلف اوقات میں تین مرتبہ طلاق دینا مذکور ہے تو تین طلاق بیوی پر واقع ہوگئی اور وہ مغلظہ بائنہ ہوکر شوہر پر حرام ہوگئی۔
---------------------------------
نوٹ: اور اگر جھوٹا طلاق نامہ لکھواتے وقت دو گواہ ہوگئے جنھیں معلوم ہے کہ جھوٹا طلاق نامہ لکھوارہے ہیں تو اس صورت میں مذکورہ طلاق نامہ لکھوانے سے کسی قسم کی طلاق نہیں پڑی۔ (د)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :60352
تاریخ اجراء :Aug 16, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ