1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

بیوی کی بدزبانی اور بدتمیزی کی وجہ سے کیا علیحدگی ہوسکتی ہے ؟

سوال

میرے بھائی اور بھابھی میں 14سال سے لڑئی جھگڑاچل رہاہے ،تین بچے بھی ہیں، میرے بھائی کی بیوی کی زبان بہت خراب ہے ہربات پرگالی دیتی ہے گھرمیں کوئی نماز اور دینی کوئی ماحول نہیں ۔اب میرے بھائی چاہتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیں وہ کہتے ہیں کافی عرصہ ہم علیحدہ ہی ہیں میں کھانابھی خود ہی کھاتاہوں ہم بات چیت بھی بہت کم کرتے ہیں جب بھی بات کرتے ہیں وہ گالم گلوچ پراتراتی ہے جسکی وجہ سے میری بھی زبان بھی خراب ہونے لگی ہے اب مجھے بہت ڈرلگنے لگاہے ۔ میں نے اپنے بھائی سے کہاکہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے علماء سے مشورہ کرلیں تاکہ اللہ کی رضاشامل رہے پلیز اس سلسلے میں کچھ فرمایئے تاکہ اللہ کی نافرمانی نہ ہوسکے اور آخرت میں سرخ رو ہوسکے ۔ میرے بھائی کا نام توقیرالحسن ہے ۔ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جوبھی راستہ ضرور اگاہ کریں مگرجلدی کہی دیرنا ہوجائے ۔

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 382-379/B=5/1436-U
بھائی سے کہہ دیں کہ اپنی بیوی کی بدزبانی اور گالیوں پر ناراض نہ ہوں اور وہ بھی گالی جواب میں نہ دیں، بلکہ نرمی اور خاموشی اور برداشت سے کام لیں، جھگڑا ہرگز نہ کریں وہ نرم رہیں گے تو کچھ دنوں کے بعد بیوی نرم ہوجائے گی، حضرت مرزا مظہر جان جاناں ہندوستان کے مشہور ولی گذرے ہیں ان کی بیوی بہت تیز مزاج تھیں، مریدین شکایت کرتے تو یوں فرماتے کہ اللہ نے میری اصلاح کے لیے ایسی بیوی دی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :57615
تاریخ اجراء :Mar 6, 2015

PDF ڈاؤن لوڈ