1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

سنا ہے كہ اگر سات سال تك عدت نہ گذاری جائے تو كیا طلاق معاف ہوجاتی ہے؟

سوال

میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر کسی لڑکی کوطلاق ہو جاتی ہے اور اگر وہ عدت نہیں گذارتی ہے تو کیا وہ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے"
(۲) کیا کچھ مدت کے بعد طلاق معاف ہوجاتی ہے؟
(۳) کیا کوئی ایسی صورت ہے جس میں طلاق معاف ہوسکتی ہے؟جب کہ اس لڑکی کو کوئی بچہ بھی نہیں ہے، میرے سامنے ایسا ہی ایک معاملہ آیا کہ ایک لڑکی کو طلاق ہوگئی اور اس نے کچھ سال بعد دوبارہ نکاح کرلیا جب میں نے معلوم کیا تو ان لوگوں نے بتایا کہ اگر سات سال تک عدت نہ کی جائے تو وہ معاف ہوجاتی ہے"
(۴) اگر عدت طلاق یا شوہر کے مرنے پر فوراً شروع نہ کی جائے تو کیا بعد میں شروع کرسکتی ہے یا نہیں؟شکریہ

جواب


بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 43-8/B=1/1435-U
(۱) اگر کسی لڑ کی کو طلاق ہوگئی اور اس کے بعد تین حیض گذرگئے تو اس کی عدت پوری ہوگئی، اس کے بعد اپنا نکاح کسی اور کے ساتھ کرسکتی ہے، عدت میں اگر پردہ نہیں کیا،اِدھر اُدھر گھومتی رہی، گھر نہیں بیٹھیں تو وہ گنہ گار رہے گی، لیکن اس کی عدت تین حیض آنے کے بعد مکمل ہوجائے گی،اس کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔
(۲) یہ سمجھنا کہ کچھ مدت تک عدت نہ کی جائے تو طلاق معاف ہوجاتی ہے، یہ صحیح نہیں۔
(۳) ایسی کوئی صورت نہیں ہے، یہ سمجھنا کہ سات سال تک عدت نہ کی جائے تو طلاق معاف ہوجائے گی یہ صحیح نہیں ہے۔
(۴) عدت تو اپنے آپ (آٹومیٹک) پوری ہوجاتی ہے جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا، اگر طلاق کے بعد عورت کو تین مکمل حیض آگئے تو اس کی عدت پوری ہوگئی، یہ اور بات ہے کہ اگر اس نے عدت میں پردہ کا اہتمام نہیں کیا، اِدھر اُدھر جاتی رہی تو وہ گنہ گار ضرور ہوگی، لیکن اس کی عدت آٹومیٹک پوری ہوگئی، بعد میں عدت پوری کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :49471
تاریخ اجراء :Nov 28, 2013

PDF ڈاؤن لوڈ