1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. حج وعمرہ

میرے والد صاحب اس سال حج پر جانے کا پلان بنارہے ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ میرے حج کرنے سے پہلے حج کرسکتے ہیں کیوں کہ مالی اعتبار سے ان کا انحصار میرے اوپر ہے۔ میں نے ابھی تک حج ادا نہیں کیا ہے صرف مجھے عمرہ کرنے کا

سوال

میرے والد صاحب اس سال حج پر جانے کا پلان بنارہے ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ میرے حج کرنے سے پہلے حج کرسکتے ہیں کیوں کہ مالی اعتبار سے ان کا انحصار میرے اوپر ہے۔ میں نے ابھی تک حج ادا نہیں کیا ہے صرف مجھے عمرہ کرنے کا موقع ملا ہے چند سال پہلے۔ برائے کرم میری رہنمائی فرماویں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 501=501/م
 
جی ہاں! آپ کے والد صاحب آپ سے پہلے حج کرسکتے ہیں، بلکہ آپ کے لیے یہ سعادت کی بات ہوگی کہ پہلے والد صاحب کو اپنے ذاتی روپئے سے حج کرادیں، پھر آپ بھی کرلیں، لیکن اگر آپ کے اوپر حج فرض ہوچکا ہے، تو آپ بھی زیادہ تاخیر نہ کریں، اور اگر دونوں (والد صاحب اور آپ) ساتھ جانے کی استطاعت رکھتے ہیں، تو بہتر ہوگا کہ والد صاحب کو اپنے ساتھ لے جائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :11695
تاریخ اجراء :Apr 5, 2009

فتوی پرنٹ