1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

میں اپنے چھ بیٹے اور تین بیٹیوں میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں تو کیسے کروں؟

سوال

میرے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور میں ان میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں تو کیسے کروں؟ اور میں اپنے ایک بیٹے کو کچھ زیادہ دینا چاہتا ہوں تو کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے ؟اور ایسی صورت میرے کسی دوسرے بیٹے کو یہ پوچھنا جائز ہے کہ آپ ہمیں کم کیوں دے رہے ہیں۔اور کیا کسی بیٹا کا یہ کہنا جائز ہے کہ ہمارا بھی حق ہے آپ کی جائداد میں؟ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت کریں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 109-79/B=02/1441
جب تک آپ بقید حیات ہیں آپ اپنی تمام جائیداد کے مالک و مختار ہیں۔ آپ کی حیات میں اولاد کا کوئی حق و حصہ نہیں ہے۔ اولاد کا حق باپ کی وفات کے بعد ہوتا ہے۔ آپ اپنی حیات میں اپنی اولاد کے درمیان اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہبہ ہوگا۔ یہ میراث کی تقسیم نہ ہوگی۔ ہبہ میں بہتر اور افضل یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کو برابر حصہ دیں۔ سَوُّوا بَیْنَ أولاَدِکُمْ فِی الْعَطِیَّةِ یعنی عطیہ اور ہبہ میں اپنی اولاد کے درمیان برابری اختیار کرو۔ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کو برابر حصہ دو، یعنی اپنی ۹/ اولاد میں ۹/ حصے کرکے برابر برابر ہر ایک کو حصہ دیدیں۔ اگر اولاد میں سے کسی کے ساتھ زیادہ محبت ہے یا اس نے آپ کی زیادہ خدمت کی ہے تو اس کو کچھ زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی اولاد کو اعتراض کرنے یا شکایت کرنے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ ابھی پوری جائیداد کے آپ مالک ہیں۔ جو کچھ اولاد کو دے رہے ہیں یہ آپ کا تبرع اور احسان ہے اس لئے کسی کو کسی طرح کا اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :173541
تاریخ اجراء :Oct 16, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ