1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. حلال و حرام

ایم آئی ایس پر جو اضافی رقم کا حکم

سوال

میری سرکاری نوکری ہے، میں نے 200000 روپئے کا بینک میں ایم آئی ایس(MIS ) کروایا ہے ایک سال کے لیے، بینک ہر مہینہ 1125 روپئے دے گا، ایم آئی ایس ایک سال پورا ہونے پر بینک مجھے میری رقم 200000 بھی واپس کردے گاتو بینک اپنے سے دے رہاہے ، سوال یہ ہے کہ کیا 1125 روپئے سود میں آئیں گے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:209-153/sd=3/1441


جی ہاں ! یہ رقم سود ہے، اسے ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں ہے ؛ بلکہ نکال کر بلا نیت ثواب فقراء پر صدقہ کردینا ضروری ہے۔


کل قرض جر منفعة، فہو ربا . (مصنف ابن أبی شیبة 4، رقم: 20690)....ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ اہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار)9/553، فصل فی البیع،ط: زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :174278
تاریخ اجراء :Nov 13, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ