1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. نکاح

كیا شادی كے لیے ماں باپ كا راضی ہونا ضروری ہے؟

سوال

میں جاننا چاہتاہوں کہ آج سے کچھ دنوں پہلے میں نے ایک مسلم لڑکی سے جو بالغ ہے نکاح کیا ہے، نکاح کے وقت اس لڑکی کے فیملی والے ہم سے شادی کے لیے راضی تھے اور ہم دونوں نے الگ جاکر مسلم طریقے سے نکاح کیا، اس کے بعد لڑکی نے اپنی فیملی کو بتادیا کہ میرا نکاح ہوگیاہے، ہم اب ان کے فیملی ممبر کے علاوہ کسی اور مولانا کے پاس جاکے کنفرم کیا کہ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں تو مولانا صاحب کا جواب آیا ہے کہ بنا ماں باپ کے نکاح جائز نہیں ہے، میں ماں باپ کا راضی ہونا ضروری ہے، لہذا، میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا ہم نکاح میں ہیں یا نہیں؟
براہ کرم، جواب دیں تاکہ میں اپنی بیوی کو لا سکوں کسی مشکلات کے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 222-186/D=03/1441


اگر دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورت گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول ہو گیا تھا تو نکاح درست ہوگیا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :174415
تاریخ اجراء :Nov 14, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ