1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. حلال و حرام

سركاری رقم بچاكر كھانا بنانا

سوال

بندہ ایک سرکاری محکمے میں نوکری کرتا ہے ۔جہاں کھانا پکانے کیلئے لانگری سرکاری طور پر مہیا کیا جاتا ہے جبکہ کھانا پکانے کا سامان ہم اپنے پیسوں سے خریدتے ہیں۔ لیکن تقریبا 2ماہ سے سرکاری طور پر لانگری نہیں ملا۔ملازمان نے قریبی گاوٴں سے ایک کھانا پکانے والے کا بندوبست کیا جس کی تنخواہ گرہ خود سے دی جاتی رہی۔ لانگری کی تنخواہ اور سامان کا خرچہ بڑھ جانے کی وجہ سے اس ماہ لانگری کی آدھی تنخواہ سرکاری گاڑی کو سرکاری طور پرملنے والے ڈیزل سے پیسے بچا کر دی گئی جبکہ ڈیزل بچانے کی سرکا ری طور پر اجازت نہیں ہے ۔ بندہ نے کافی ترغیب دی مگر کوئی اثر نہ ہوا جوابا یہ کہا گیا کہ ہم کھانے کا سامان تو نہیں لارہے اور لانگری کا فراہم کرنا محکمے کا کام ہے ۔لہذا، یہ غلط نہیں ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں اجتماعی کھانا کیسا ہے جبکہ قریب کوئی ہوٹل بھی نہیں اور ہمیں تقریبا 24 گھنٹے وہاں گزارنے ہوتے ہیں بعض اوقات 32 گھنٹے ۔ جواب دیکر مشکور فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 1365-1213/H=01/1441
سرکاری گاڑی کے لئے سرکاری طور پر ملنے والے ڈیزل سے پیسہ خلافِ قانون ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے؛ البتہ صورتِ مسئولہ میں اس پیسے کو لانگری کو دے کر اس سے کھانا بنوانے کی وجہ سے کھانا حرام نہ ہوگا، ہاں اگر کبھی حکومت لانگری کی گذشتہ تنخواہ دے تو جتنے پیسے ڈیزل سے بچاکر لانگری کو دیئے گئے تھے، اس کے بقدر حکومت کو واپس کر دیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :172691
تاریخ اجراء :Oct 7, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ