1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

زوجہٴ ثانیہ‏، پانچ بیٹے اور چار بیٹیوں كے درمیان تقسیم وراثت

سوال

سوال ایک شخص کی بیوی فوت ہو گئی اس سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی اس شخص نے دوسری شادی کرلی دوسری بیوی سے 4 بیٹے 3 بیٹیاں ہیں اب اس شخص کا انتقال ہوگیا اس کی بیوہ نے دوسرا نکاح کرلیا مرحوم کے چھوٹے بھائی کے ساتھ اس شخص کی ملکیت میں 80 گز کے دو پلاٹس تھے اس نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ فروخت کر کے ایک پلاٹ پر چار منزلہ مکان تعمیر کیا معلوم یہ کرنا ہے پہلی بیوی سے اولاد کا وارثت میں کیا حصہ بنتا ہے اور دوسری سے اولاد کا حصہ کیا بنتا ہے؟
برائے مہربانی اسلامی تعلیمات کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 714-535/H=06/1441


بعد اداءِ حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہ شخص مرحوم کا کل مالِ متروکہ (مکان چار منزلہ اور اس کے علاوہ تمام املاک) سولہ (16) حصوں پر تقسیم کرکے دو (2) حصے مرحوم کی زوجہٴ ثانیہ باحیات کو اور دو دو (2-2) حصے مرحوم کے پانچوں بیٹوں کو ملیں گے اور ایک ایک (1-1) حصہ چاروں بیٹیوں کو ملے گا۔ بیوہ کے دوسرا نکاح اپنے دیور سے کر لینے کی وجہ سے وہ (زوجہٴ ثانیہ باحیات ) اپنے شوہر مرحوم کے ترکہ و میراث میں سے اپنے حصہٴ شرعیہ سے محروم نہ ہوگی۔       التخریج


شخص مرحوم میت:۔              کل حصے   =           16


-------------------------


زوجہٴ ثانیہ باحیات    =           2


بیٹا          =           2


بیٹا          =           2


بیٹا          =           2


بیٹا          =           2


بیٹا          =           2


بیٹی         =           1


بیٹی         =           1


بیٹی         =           1


بیٹی         =           1

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176561
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ