1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

مرحومہ والدہ کی وراثتی حصّے کی تقسیم

سوال

میری والدہ کی وفات ۲۰۱۹ میں ہوئی ہے- اپنی زندگی میں وہ کہتی تھی کہ مجھے وارثت میں حصّہ نہیں چا ہیے- مہربانی فرما کر مندرجہ ذیل ۴ سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں- -۱ اب اگر ننھیال سے حصّے کی رقم ملتی ہی تو اسے قبول کرنا چا ہیے یا نہیں؟
۲- اگر قبول کرنا چا ہیے تو اسے بہن' بھائیو اور والد صاحب میں کس طرح تقسیم کرنا ہوگا؟
۳ -اگر رقم وارثتی حصّے کی نہ ہو بلکے والدہ کے نام پر ویسے ہے ملے تو کیا اسے قبول کرنا چا ہیے یا نہیں؟
۴- اگر قبول کرنا چا ہیے تو اسے بہن' بھائیو اور والد صاحب میں کس طرح تقسیم کرنا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں شکریہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 553-501/M=06/1441


(۱، ۲) اگر ننھیال سے والدہ مرحومہ کے وراثتی حصے کی رقم ملتی ہے تو اسے لے لینی چاہئے اور آپس میں شرعی طریقے پر تقسیم کرلینی چاہئے، آپ کتنے بھائی بہن ہیں اگر تفصیل سے شرعی ورثہ لکھتے تو ہر وارث کے حصے کی تخریج لکھ دی جاتی۔


(۳، ۴) والدہ کے نام پر ویسے ہی ملنے سے کیا مراد ہے؟ رقم کون دے رہا ہے کس حیثیت سے دے رہا ہے؟ اور کن لوگوں کو دے رہا ہے؟ وضاحت کے ساتھ سوال کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176507
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ