1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. حلال و حرام

المیزان بینک کی ذیلی کمپنی كے ذریعے سرمایا کاری کرنا حلال ہے یا حرام؟

سوال

المیزان بینک کے بینک اکاونٹس مثلا کرنٹ، سیونگ وغیرہ اور ٹرم ڈپازٹ سرٹیفیکیٹ پر ملنے والا منافع حلال ہے یا حرام؟ وضاحت فرمائیں؟ المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ جو کہ المیزان بینک کی ذیلی کمپنی ہے کے ذریعے سرمایا کاری کرنا اور منافع کمانا حلال ہے یا حرام؟ وضاحت فرمائیں حکومت پاکستان کے جاری کردہ پرائزبانڈ پر انعام کی رقم حلال ہے یا حرام؟ وضاحت فرمائیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:522-82T/L=6/1441


(۱)المیزان بینک کے طریقہ کار سے ہم واقف نہیں ،اس کے لیے مقامی علماء کی طرف رجوع کیا جائے۔(۲)حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈ سود اور قمار پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے ناجائز ہے. اور اس سے حاصل شدہ انعام کی رقم حرام ہے۔


قال تعالی: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة: 90) وعن جابر، قال: ”لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الرباء وموٴکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ“ وقال: ”ہم سواء“ رواہ مسم (1598) ویوجد فی عصرنا نوع آخر من الجوائز، وہو ما یعطی لحاملی السندات الحکومیة (Prize Bonds ) علی أساس القرعة. والحکم الشرعی لہذہ الجوائز موقوف علی معرفة حقیقة ہذہ السندات.وحقیقتہا : أن الحکومة ربما تحتاج إلی الاستقراض من عامة الشعب لمواجہة عجز میزانیتہا، فتعطی کل مقرض سندا یمثل مدیونیة الحکومة تجاہ حاملہ، وإن ہذہ السندات تکون ربویة فی العادة، بحیث إن الحکومة تضمن لصاحبہا أن تعید إلیہ مبلغ القرض مع الفائدة الربویة.ولکن فی بعض الأحیان تصدر سندات لا تشترط فیہا الزیادة الربویة لکل حامل السند، ولکن تلتزم الحکومة بتوزیع الجوائز علی حاملیہا علی أساس القرعة، فکل من خرج اسمہ فی القرعة استحق جائزة ربما تکون أضعاف أضعاف ما کان یحصل علیہ من الفائدة الربویة فی الأحوال العادیة .وقد یستدل علی مشروعیة ہذہ الجوائز، بأن الحکومة لا تشترط إعطاء الزیادة لأحد من المقرضین حاملی الشند، فالعقد مع کل واحد من حملة السند عقد قرض بدون فائدة، ثم إنہا تعطی ہذہ الجوائز علی أساس القرعة، فکانت تبعة من قبلہا، فلا یلزم منہ الربا، لأن الربا ما ہومشروط فی عقد القرض.ولکن ہذا الاستدلال غیر صحیح :أما أولا : فلأن الحکومة تلتزم بتوزیع الجوائز علی حملة السند،فالزیادة علی مبلغ القرض وإن لم تکن مشروطة لکل واحد من المقرضین،ولکنہا مشروطة تجاہ مجموعة المقرضین؛ لأن الحکومة تلتزم علنا عند إصدار ہذہ السندات أنہا توزع ہذہ الجوائز، بحیث إذا امتنعت الحکومة من توزیع الجوائز، یحق لکل مقرض أن یطالبہا بذلک فی القضاء، فلا یمکن أن یقال : إنہا زیادة غیر مشروطة فی العقد، وکلما اشترطت الزیادة فی عقد القرض، صارت ربا .وأما ثانیا : فإن طبیعة ہذہ السندات لا تختلف عن السندات الربویة ، وغایة ما تفعلہ الحکومات أنہا بدلا من إعطاء الفائدة إلی کل أحد من المقرضین، تجمع مبالغ الفوائد فی وعاء واحد، وتوزعہا علی مجموعة من المقرضین منتخبة علی أساس القرعة، فالعملیة مبنیة علیأساس المخاطرة فی مبالغ الفوائد، ففائدة کل واحد إما تضیع علیہ ، وإما تجلب مالا أضعاف أضعاف الفائدة.(بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة 160/2)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176286
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ