1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. حلال و حرام

تعطیل سے دو رو زپہلے حاضر نہ ہونے کی صورت میں پوری تعطیل کی تنخواہ کاٹ لینے کا حکم

سوال

صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک اسکول اپنے اساتذہ کو موسم سرما کی تعطیلات از خود دے رہا ہے مگر ان تعطیلات کی تنخواہ اس شرط پر دے گا کہ پڑھائی شروع ہونے سے دو دن پہلے اساتذہ حاضر ہوں۔ اگر کوئی استاد ان دو دنوں میں سے کسی بھی ایک دن غیر حاضر ہوگا تو اسکی مکمل تعطیلات کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ کیا یہ کٹوتی جائز ہے ؟ جبکہ اسکول نے خود چھٹی دی ہو۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:463-405/sn=6/1441


اسکول از خود تعطیلات دے رہا ہے کا مطلب اگر یہ ہے کہ ملازمت کے معاہدے میں موسم سرما کی تعطیل شامل نہیں ہے اور نہ ہی ادارے میں اس کا عرف ہے؛ بلکہ اسکول کے ذمے داران از خود تبرّعا یہ تعطیلات دے رہے ہیں تو ان کے لیے مذکورفی السوال شرط کی گنجائش ہے؛ کیونکہ ایسی صورت میں یہ (تعطیل) ملازم کاحق نہیں ہے ؛ بلکہ ادارے کی طرف سے ایک طرح کا تبرع اور انعام ہے اور انعام کو آدمی کسی بھی مباح شرط کے ساتھ مشروط کرسکتا ہے۔ نوٹ : ازخود تعطیلات دینے سے کچھ اور مراد ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :175937
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ