1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. دعاء و استغفار

امام كے ساتھ جو دعا كی جاتی ہے كیا وہ اجتماعی دعا ہے؟

سوال

امام نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو مقتدی بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں اور دعا سراً ہوتی ہے ،اس کو اجتماعی دعا کہا جائے گا یا اجتماعی دعا وہ ہے کہ امام جہراً دعا کرے اور مقتدی آمین کہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 528-511/M=06/1441


دعا جہری ہو یا سرّی، مقتدی اگر دعا میں امام کی پیروی کو ضروری سمجھیں کہ امام کے شروع کرنے پر شروع کریں اور امام کے ختم کرنے پر ختم کریں، ایسی دعا اجتماعی ہے اس کے التزام کے بغیر دعا کرنی چاہئے۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتداء کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد دعا سرًّا کرنا اولیٰ ہے اجتماعیت از خود پیدا ہو جائے تو مضایقہ نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176930
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ