1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. اخلاق و آداب

گناہ کبیرہ میں شریک والد كے ساتھ كیا برتاؤ ہونا چاہیے؟

سوال

جیسا کہ اوپر دیئے گئے عنوان سے واضح ہے ، میرا سوال اس صورت حال کے حوالے سے ہے جس میں اولاد کو اس بات کا جامع و مفصل ثبوت مل جائے کہ اس کے والد صاحب کے کسی نامحرم عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں ایک ذمہ دار اور فرمانبردار فرزند کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح لائحہ عمل کیا ہو گا؟ ہمارے نبی نے والدین کے مقام کو بہت اونچا قرار دیا، چنانچہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس صورت حال میں ایک بیٹے کا اپنے والد صاحب کو اس گناہ کی سخت سزا کے حوالے سے متنبہ کرنا ادب و احترام کی حدود سے تجاوَز ہو گا یا نہی، بڑی نوازش۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 527-510/M=06/1441


مذکورہ صورت حال میں اولاد کو چاہئے کہ باپ کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت، نرمی اور حسن انداز سے موقع بموقع ان کو گناہ کے عذاب سے ڈرانے وسمجھانے کا کام کرتے رہیں، کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق کرادیں تاکہ ان کی صحبت و ہدایت سے باپ کی بری عادت چھوٹ جائے یا علماء کی دینی مجالس میں یا تبلیغی جماعت میں بھیجنے کی کوشش کریں، غرض یہ کہ ان سے قطع تعلق نہ کریں، نہ بے ادبی سے پیش آئیں، نہ ان کو برے حال پر چھوڑیں ان کے لئے دعا اور خیرخواہی میں لگے رہیں۔ (مستفاد محمودیہ: ۲۹/۱۱۲، ط: میرٹھ)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176418
تاریخ اجراء :Feb 9, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ