1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. نکاح

براہِ راست فون پر ایجاب و قبول كیا اور والد صاحب نے بطور وكیل میری طرف سے دستخط كیے‏، كیا نكاح درست ہوگیا؟

سوال

میں بیرون ملک مقیم ہوں اور پاکستان سے شادی کر کے بیوی کو اپنے پاس یہاں بلانا چاہتا تھا، میں نے یہیں بیرون ملک رہ کر پاکستان سے لڑکی کے ساتھ نکاح کا طریقہ علماء سے معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ میں اپنی طرف سے پاکستان میں ایک وکیل مقرر کر دوں اور وہ میری جگہ ایجاب و قبول کر لے۔ پاکستان میں میرے والدین نے نکاح خواں قاری صاحب، لڑکی کے وکیل اور گواہان کو نکاح کی تقریب کیلئے بلایا۔نکاح پڑھانے والے قاری صاحب نے ڈائریکٹ مجھ سے فون کال پر ایجاب و قبول کروایا اس وقت میرے والد صاحب اور لڑکی کے بھائی یعنی اس کے وکیل، اور دیگر گواہان اس مجلس میں موجود تھے ۔ نکاح نامے پر لڑکی نے دستخط کیے اور میری طرف سے میرے والد صاحب نے بطور وکیل دستخط کیے۔ الغرض، قاری صاحب نے میرے وکیل کی بجائے اس وقت مجھ سے فون پر ایجاب و قبول کروایا۔ اور ان کا کہنا تھا کہ اس طرح نکاح ہوگیا ہے ۔ میرا کچھ عرصہ بعد پاکستان جانا ہوا تو رخصتی کی تقریب ہوئی اور اسکے بعد اب ہم دونوں ساتھ رہ رہے ہیں ۔اس کے علاوہ تمام سرکاری کاغذات ، جیسا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ میں ہم دونوں نے بطور میاں بیوی اندراج کرا لیا ہے۔ کچھ ماہ گزرنے کے بعد یہ یہ بات میرے ذہن میں آرہی ہے کہ ہمارے نکاح کی اوپر مذکورہ صورت درست تھی کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جزاکم اللہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 905-652/H=07/1441


براہِ راست فون پر ایجاب و قبول کر لینے پر بعض علماء کے نزدیک نکاح درست ہو جاتا ہے پس اُن کے نزدیک صورتِ مسئولہ میں آپ کا نکاح درست ہوگیا تاہم دیگر بعض اہل فتویٰ فون پر ایجاب و قبول کو درست قرار نہیں دیتے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ باقاعدہ اب تجدید نکاح کرلیں تاکہ نکاح کی صحت میں کچھ شبہ یا وسوسہ باقی نہ رہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :177541
تاریخ اجراء :Mar 19, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ