1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. نکاح

حقیقی ولدیت نہ لکھنے سے نکاح پر کیا فرق پڑے گا

سوال

میری خالہ کی طلاق ہوگئی اور اس کے بعد دوسری جگہ نکاح کیا گیا۔ خالہ کی بیٹی جو پہلے شوہر سے تھی وہ بھی ان کے ساتھ ہی (دوسرے شوہر کے گھر پر) رہنے لگی۔ اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور نشونما وہیں پر ہوئی ۔ کیونکہ پہلے شوہر نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اس بچی کے کسی قسم کے نان و نفقہ یا خرچ کے ذمے دار نہیں ہوں گے۔ اس لیے بچی کے سکول داخلے سے لیکر آج تک کے تمام دستاویزات میں ولدیت کی جگہ خالہ کے دوسرے شوہر ہی کا نام لکھا جاتا رہا ۔ اب خالہ کی بیٹی کے جوان ہونے کے بعد خالہ کا انتقال ہو گیا ۔ والدین نے اسکے ساتھ میرا نکاح کر دیا ہے ۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے۔ میری اہلیہ کے سولہ سالہ تعلیمی سرٹیفیکیٹس اور قومی شناختی کارڈ کے مطابق اسکے نکاح نامے میں اسکے حقیقی والد کی جگہ خالہ کے دوسرے شوہر کا نام لکھنا پڑا ۔ جب کہ نکاح کے وقت موجود رشتہ داروں اور گواہوں سمیت مجھے اور مریِ اہلیہ کو اسکے حقیقی والد کے نام کا پورا پورا علم تھا ۔ آپ سے موٴدبانہ سوالات یہ ہیں کہ :
(۱) کیا یہ نکاح ٹھیک تصور ہو گا ؟
(۲) کیا اب نکاح کی تجدید کی ضرورت ہے؟
(۳) اور اگر تجدید کی کوئی ضرورت ہے تواس کا سب سے آسان طریقہ کیا ہو گا ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 664-502/B=07/1441


ولدیت کبھی بدلتی نہیں ہے۔ بچی کے جو اصل اور حقیقی باپ ہیں ولدیت میں ان ہی کا نام لکھنا ضروری ہے۔ ہاں اگر وہ بچی اسی ولدیت سے متعارف ہو چکی ہے اس بچی کے تعین میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے تو نکاح ہوگیا۔ لیکن احتیاطاً دوبارہ صحیح ولدیت کے ساتھ گواہوں کے سامنے لڑکے سے قبول کرا لیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :177401
تاریخ اجراء :Mar 19, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ