1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. نکاح

صرف رشتہ طے ہونے سے لڑکا اور لڑکی آپس میں میاں بیوی نہیں بنتے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں قران و حدیث کی روشنی میں؟
ایک مسلم بالغ لڑکی (عمر 26 سال )کا ایک بالغ لڑکے(عمر 34 سال) سے رشتہ طے ہوتا ہے۔ لڑکی صوم وصلات اور مکمل شرعی پردے کی پابند ہے۔ اب یہ دونوں فون پر گفتگو بھی کرتے۔ملتے جلتے۔اکٹھے سفر کرتے ہیں۔ساتھ آتے جاتے ایک سال سے ایسا ہی چل رہا ہے۔مزید یہ کہ نکاح شادی اور رخصتی ایک سال بعد ہوگی_ لڑکی کے ماں باپ اور بھائی منع نہیں کرتے۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 628-596/M=07/1441


صرف رشتہ طے ہونے سے لڑکا اور لڑکی آپس میں میاں بیوی نہیں بنتے، دونوں ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہی رہتے ہیں اس لیے جب تک شرعی طریقے پر نکاح نہ ہوجائے اس وقت تک دونوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا، پیار و محبت کی باتیں کرنا اور ایک ساتھ سفر کرنا، اور بذریعہ فون گفتگو کرنا، یہ سب چیزیں ناجائز ہیں، ماں باپ اور بھائی کو علم ہوتے ہوئے بھی اِن چیزوں سے منع نہ کرنا نہایت بے غیرتی کی بات ہے، اور مناسب رشتہ مل جانے اور رشتہ طے ہو جانے کے بعد بلاوجہ نکاح و رخصتی میں تاخیر کرنا بھی ٹھیک نہیں، اولیاء کو چاہئے کہ جلد نکاح کردیں ورنہ خدانخواستہ اگر وہ نکاح سے پہلے حرام کاری کے مرتکب ہوئے تو اِس کا گناہ و وبال اُن پر بھی ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176987
تاریخ اجراء :Mar 19, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ