1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. عورتوں کے مسائل

شدت جذبات میں اورل سيكس كرنا

سوال

جناب نہایت ادب سے سوال ہے کہ شدت جذبات میں بیوی صاحبہ اپنے اوپر اختیار کھو بیٹھتی ہے۔ متعدد بار منع کرنے پر بھی وہ اورل سیکس کرتی ہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ یہ مکروہ تو ہے لیکن کیا ایسا کرنا گناہ تو نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 640-527/L=07/1441


زبان تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی کے لئے ہے، اس کو جنسی شہوت پوری کرنے کا ذریعہ بنانا مکروہ اور بڑی بے حیائی کی بات ہے، اس سے بالکلیہ احتراز کرنا چاہئے؛ تاہم اگر آپ کی بیوی شدتِ جذبات سے بے قابو ہوکر کبھی ایسا کر ڈالے تو گناہ نہ ہوگا۔


في المحیط البرھانی: إذا أدخل الرجل ذکرہ فم امرأتہ فقد قیل: یکرہ؛ لأنہ موضع قراء ة القرآن، فلا یلیق بہ إدخال الذکر فیہ، وقد قیل بخلافہ․  (المحیط البرھانی: ۵/۴۰۸) وفي الفتاوی الہندیة: في النوازل إذا أدخل الرجل ذکرہ في فم امرأتہ قد قیل یکرہ وقد قیل بخلافہ کذا في الذخیرة․  (الفتاوی الہندیة: ۵/۳۷۲) وفي إعانة الطالبین: قولہ: یجوز للزوج) ومثلہ المتسري (وقولہ: کل تمتع منہا) أي من زوجتہ: أي أو من أمتہ (قولہ: بما سوی حلقة دبرہا) أما التمتع بہا بالوطیٴ فحرام: لما ورد أنہ اللوطیة الصغری وأنہ لا ینظر اللہ إلی فاعلہ وأنہ ملعون (قولہ: ولو بمص بظرہا) أي ولو کان التمتع بمص بظرہا فإنہ جائز․  (إعانة الطالبین: ۳/۱۸۸)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176811
تاریخ اجراء :Mar 19, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ