1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

مخلوط مال کی میراث

سوال

حضرات مفتیان کرام ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو اپنی بکریاں دیں دیکھ بھال اور چرانے کے لیے ، بیٹے کے پاس اپنی بکریاں بھی تھیں ۔ اب دونوں کی بکریوں نے بچے دیئے اور بڑھتی گئیں۔ کچھ عرصے بعد باپ کا انتقال ہو گیا ۔ اب بیٹے اور باپ کی بکریاں مخلوط ہو گئیں اور بیٹے کو نہیں معلوم کہ باپ کی کتنی بکریاں ہیں اور میری کتنی ہیں؟ اس باپ کے تین بیٹے ہیں اب یہ بکریاں کیسے ان میں تقسیم ہوں گی؟ بینوا توجروا۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 559-489/D=07/1441


اگر دونوں کی بکریاں اس طرح مل گئی ہوں کہ الگ کرنا ناممکن ہو تو اندازے سے جتنا حصہ والد صاحب کا نکلتا ہے، دیانت داری کے ساتھ دیگر ورثہ کے سامنے ظاہر کردیں اور ان کو پوری صورت حال بتلادیں ، پھر تمام ورثہ کے درمیان حصہ شرعی کے مطابق تقسیم کردیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :176836
تاریخ اجراء :Mar 12, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ