1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

غیر ماں کی طرف نسبت کرنے سے کیا آدمی وراثت سے بہ وجہ کفر محروم ہوجائے گا ؟

سوال

غیر ماں کی طرف نسبت کرنے سے کیا آدمی وراثت سے بہ وجہ کفر محروم ہوجائے گا ؟

جواب

Fatwa:7-12T/SN=2/1442

 سوال میں جو حدیثیں آپ نے ذکر کی ہیں، ان کا مقصد اس عمل کی ممانعت کی شدت کو بیان کرنا ہے ، یہ حدیثیں اپنے ظاہر پر نہیں ہیں، ان احادیث کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں،جو شرح نووی ،مرقاة اور بخاری شریف کے حاشیے وغیرہ میں مذکور ہیں؛ لہٰذا اگر کوئی آدمی اپنی نسبت حقیقی ماں کے بہ جائے کسی اور کی طرف کی کرے تو وہ بلاشبہ گناہِ عظیم کا مرتکب ہے ؛ لیکن اس کی وجہ سے وہ ایمان سے خارج نہ ہوگا، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ مسلمان گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے خارج از ایمان نہیں ہوتا؛ لہٰذا وہ اپنے حقیقی والد یا کسی اور قرابت دار کی وراثت سے محروم نہ ہوگا۔ ۔ واضح رہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو اس کی تفصیل لکھ کر حکم معلوم کرلیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :179772
تاریخ اجراء :26-Sep-2020

فتوی پرنٹ