1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

وراثت کی تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتی کرام صاحبان میرے مسلئے کے بارے میں۔ ہم تین بھائی اور دو بہنیں تھے ۔ایک بھائی اور بہن سوتھیلا ہے ۔انکا باپ جدا تھا اور ماں سبھی کا ایک تھا۔سارہ جائیداد میرے والد نے حرید لیا تھا۔ والد صاحب نے ہم تین بھائیوں کو گھر میں برابر حصہ دیا۔اور کچھ حصہ اپنی بیوی کو دے کرسب کے نام انتقال کردیا۔سوتھلے بھائی اور بہن کو حصہ نہیں دیا۔اسکے بعد میرے بھائی کا انتقال ہو گیا۔اسکے بیوی بچے نہیں تھے ۔اسکے بعد والد کا انتقال ہوا۔ میری والدہ نے اپنا حصہ ہم دونوں بھائیوں پر تقسیم کیا۔(جس کے گواہان موجود ہے )اسکے بعد وفات ہوئی ۱:میرے فوت شدہ بھائی کے حصہ کا تقسیم کار واضح کریں۔

جواب

Fatwa:14-9/sd=0142

 آپ کے سوال میں بہت سی باتیں تحقیق طلب ہیں، معاملہ بھی کچھ نزاعی معلوم ہوتا ہے ، اس لیے مقامی کسی مستند دار الافتاء سے رجوع کیا جائے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :179750
تاریخ اجراء :09-Sep-2020

فتوی پرنٹ