1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے مختلف اکاؤنٹ میں رقم رکھنا

سوال

انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے مختلف اکاؤنٹ میں رقم رکھنا

جواب

Fatwa:45-32/sn=2/1442

 آدمی اپنی کمائی ہوئی رقم ایک اکاؤنٹ میں بھی رکھ سکتا ہے اور کسی مصلحت (مثلا ٹیکس کی بچت وغیرہ) سے متعدد اکاؤنٹوں میں بھی، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، حاصل یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں مختلف اکاؤنٹ میں رقم رکھنا شرعا گناہ نہیں ہے اور نہ اس رقم کے استعمال میں شرعا کوئی حرج ہے ؛ البتہ کوئی ایسا کام کرنا جس کی وجہ سے آدمی ملکی قانون کی زدمیں آجائے اور رسوائی کا سامنا ہو خلاف احتیاط ہے ۔

عن حذیفة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:لا ینبغی للمؤمن أن یذل نفسہ ، قالوا: وکیف یذل نفسہ؟ قال: یتعرض من البلاء لما لا یطیق․ (سنن الترمذی ، رقم:2254)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600083
تاریخ اجراء :26-Sep-2020

فتوی پرنٹ