1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

سرکاری مدرسہ کی ملازمت

سوال

مفتیان کرام سے اس سوال کا جواب مطلوب ہے ۔میں نے اپنے چھوٹے بھائی ساجد کی نوکری سرکاری مدرسہ میں لگوائی جس کا رشوت کا پیسہ( 650000) دیا مدرسہ کے کمیٹی سے ہماری بات ہوئی سرکاری مدرسہ میں کام کم ہے اسی کی پرائیویٹ برانچ انگلش میڈیم کا کام بھی ساجد کو دیکھنا ہوگا اور ہم آپ کو نوکری دے دینگے میں اس پر راضی ہوگیا میرا بھائی نو سال سے دونوں کام دیکھ رہا ہے ابھی تک اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں جتایا اب میرا بھائی کہ رہا ہے اسکول کا کام بہت بڑھ گیا ہے ہم انگلش میڈیم پرائیویٹ والا کام نہیں دیکھیں گے اگر کرینگے تو اس کی تنخواہ الگ سے دی جائے اس صورت میں کمیٹی والوں کی ذمہ داری ہے کیا ان سے اضافی کام کی تنخواہ کا مطالبہ جائز ہے ، یا معاہدہ کے مطابق دونوں کام کرنا ہی ہوگا ۔

جواب

Fatwa : 71-68/H=02/1442

 اگر اسکول کا کام بہت بڑھ گیا ہے تو کمیٹی والوں سے صاف صحیح واضح انداز پر بتلاکر تنخواہ میں اضافہ کا معاملہ طے کرلیں، اگر کمیٹی والے کچھ اشکال کرتے ہیں تو اُس کو خود اُن ہی کے قلم سے لکھوا کر آئندہ استفتاء (سوال) ان کی تحریر سے منسلک کردیں ان شاء اللہ مزید تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600091
تاریخ اجراء :26-Sep-2020

فتوی پرنٹ