1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

لاک ڈاؤن کے دوران امام کی تنخواہ کا حکم

سوال

لاک ڈاؤن کے دوران امام کی تنخواہ کا حکم

جواب

Fatwa:51-16T/sn=2/1442

 اگر امام صاحب اس پوزیشن میں تھے کہ مسجد میں حاضر ہوکر امامت کی ذمے داری ادا کریں ؛ لیکن انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسجد بند کردی اور امام صاحب کی خدمت حاصل نہیں کی تو امام صاحب تنخواہ کے حقدار ہیں۔ اگرصورت حال مختلف ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے ۔

درر الحکام شرح مجلة الاحکام میں ہے :

(المادة 425) الأجیر یستحق الأجرة إذا کان فی مدة الإجارة حاضرا للعمل)الأجیر یستحق الأجرة إذا کان فی مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا یشرط عملہ بالفعل ولکن لیس لہ أن یمتنع عن العمل وإذا امتنع لا یستحق الأجرة.ومعنی کونہ حاضرا للعمل أن یسلم نفسہ للعمل ویکون قادرا وفی حال تمکنہ من إیفاء ذلک العمل.أما الأجیر الذی یسلم نفسہ بعض المدة، فیستحق من الأجرة ما یلحق ذلک البعض من الأجرة.

(انظر المادة 470) مثال ذلک کما لوآجر إنسان نفسہ من آخر لیخدمہ سنة علی أجر معین فخدمہ ستة أشہر ثم ترک خدمتہ وسافر إلی بلاد أخری ثم عاد بعد تمام السنة وطلب من مخدومہ أجر ستة الأشہر التی خدمہ فیہا؛ فلہ ذلک ولیس لمخدومہ أن یمنعہ منہا بحجة أنہ لم یقض المدة التی استأجرہ لیخدمہ فیہا.(البہجة) .وإنما لایشترط عمل الأجیر الخاص بالفعل کما ورد فی ہذہ المادة؛ لأنہ لما کانت منافع الأجیر مدة الإجارة مستحقة للمستأجر وتلک المنافع قد تہیئت والأجرة مقابل المنافع، فالمستأجر إذا قصر فی استعمال الأجیر ولم یکن للأجیر مانع حسی عن العمل کمرض ومطر فللأجیر أخذ الأجرة ولولم یعمل (الزیلعی) .وعلی ذلک فللراعی الذی استؤجر علی أن یکون أجیرا خاصا أخذ الأجرة تامة ما دام حاضرا للعمل ولو ہلک بعض المواشی، أو کلہا (رد المحتار)․ ]درر الحکام فی شرح مجلة الأحکام 1/458،ط:دارالجیل)

رد المحتار علی الدر لمختار میں ہے :

ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ، ولوعمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل فتاوی النوازل،(وإن) (ہلک فی المدة نصف الغنم أو أکثر) من نصفہ (فلہ الأجرة کاملة) ما دام یرعی منہا شیئا، لما مر أن المعقود علیہ تسلیم نفسہ جوہرة، وظاہر التعلیل بقاء الأجرة لو ہلک کلہا وبہ صرح فی العمادیة..........(قولہ وظاہر التعلیل إلخ) أی فقول الجوہرة ما دام یرعی منہا شیئا لا مفہوم لہ. ورأیت بخط بعض الفضلاء أن مراد الجوہرة تحقیق تسلیم نفسہ بذلک لا شرط استحقاق الأجر کما فہم المصنف والمتون والتعلیل یفیدہ اہ وہو حسن. (قولہ وبہ صرح فی العمادیة) وہو الموافق لتصریح المتون بأنہ یستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدة وإن لم یعمل․ ]الدر المختار وحاشیة ابن عابدین 9/ 96،مبحث الأجیر الخاص، مطبوعة:مکتبة زکریا، دیوبند)

نیزدیکھیں: فتاوی محمودیہ(14/532،ط:ڈابھیل) آپ کے مسائل اور ان کا حل (7/254،جدید تخریج شدہ،ط: نعیمیہ) فتاوی حقانیہ (6/261، پاکستان)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600043
تاریخ اجراء :26-Sep-2020

فتوی پرنٹ