1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

گاڑی کرایہ پر دے کر آدھا آدھا نفع مقرر کرنے کا حکم

سوال

گاڑی کرایہ پر دے کر آدھا آدھا نفع مقرر کرنے کا حکم

جواب

Fatwa:7-6/N=01/1442

 (۱- ۵): کسی شخص کو اپنی گاڑی، عوض پر چلانے کے لیے دینا اجارہ ہے، شرکت یا مضاربت نہیں ؛ البتہ صورت مسئولہ میں جس طریق پر اجرت کا تعین کیا گیا ہے، وہ جہالت کا باعث ہے؛ کیوں کہ گاڑی چلاکر کس قدر نفع ہوگا؟ معلوم نہیں، نیز جو چیز اجیر کے عمل سے حاصل ہو، اس سے اجرت کا تعین بھی درست نہیں ہوتا؛ لہٰذا یہ اجارہ، فاسد ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اجرت دو ٹوک طریقہ پر متعین کی جائے، مثلاً ماہانہ دس ہزار روپے یا فی کلو میٹر ۳/روپے۔

وشرطھا کون الأجرة والمنفعة معلومتین؛ لأن جھالتھما تفضي إلی المنازعة (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الإجارة، ۹:۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضی العقد………)کجھالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل (المصدر السابق، ص ۶۴)۔

(ولو دفع غزلا لآخر لینسجہ لہ بنصفہ) أي: بنصف الغزل (أو استأجر بغلا لیحمل طعامہ ببعضہ أو ثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہ) فسدت فی الکل؛ لأنہ استأجرہ بجزء من عملہ، والأصل في ذلک نھیہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قفیز الطحان (المصدر السابق، ص ۷۸، ۷۹)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :179725
تاریخ اجراء :20-Sep-2020

فتوی پرنٹ