1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

یتیم بچے كا مال كی نگرانی میں رہنا چاہیے 

سوال

یتیم بچے کے والد نے ترکہ میں بہت سارا مال چھوڑا تھا، یتیم بچہ کی کفالت اس کے حقیقی چچا کررہے ہیں،سارا مال چچا کے پاس محفوظ ہے ، اب بچہ بالغ ہوگیا ہے ، لیکن ابھی اسے سمجھ بوجھ نہی ہے اور بیوہ والدہ(بالغ یتیم کی ماں) ترکہ کے مال کا مطالبہ کرتی ہے ، کہ مجھے سارا ترکہ کے مال دیدو اور اس بچے کے چچا کو ترکہ کے مال کے بارے میں خطرہ لگتا ہے ، اگر بچے کی والدہ کو مال دیا گیا تو سارا مال ضائع کردے گی۔ بچے کو اس کا مال کتنی عمر میں دیا جائے ؟

جواب

Fatwa : 13-8/D=02/1442

 بچہ بالغ ہونے کے باوجود اگر سمجھدار نہیں ہوا، تو مال ابھی اس کے سپرد نہ کیا جائے، مال کے لئے اس کی سمجھ بوجھ کا انتظار کیا جائے، اس دوران اگر اس کے مال کی حفاظت چچا بخوبی کرسکیں تو چچا کے پاس رہے، اور اگر والدہ زیادہ حفاظت کرسکیں تو والدہ کی نگرانی میں رہے۔ خاندان کے بڑے اور تجربہ کار حضرات باہمی مشورے سے تجویز کرلیں کہ بچے کے حق میں کیا صورت زیادہ مفید اور قابل اطمینان ہے۔ (ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ: ۱۳/۵۷۷) نیز درمختار میں ہے: فإن بلغ الصبي غیر رشید لم یسلم إلیہ مالہ حتی یبلغ خمساً وعشرین سنة الخ (الدر مع الرد: ۹/۲۱۸-۲۱۹، ط: زکریا، کتاب الحجر)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600069
تاریخ اجراء :28-Sep-2020

فتوی پرنٹ