1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

ایك بیوی پانچ بچے اور پانچ بچیوں كے درمیان تقسیم

سوال

میرے والد صاحب وفات ہو گئے وراثت میں کل ملا کر 12 لاکھ روپے تقریبا چھوڑے ہیں۔میں تیسرا غیر شادی شدہ بیٹا ہوں میں نے چھ سال نوکری کر کے ہر مہینے دس ہزار روپے والد کے پاس جمع کئے ہیں تاہم والد اور میرے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ یہ پیسے میں آپ کو اپنی شادی کرنے کے لیے دے رہا ہو ان چھ سال میں چھ لاکھ روپے اپنے والد کے ساتھ جمع کیے ہیں۔ ہمارے علاقے میں یہی رسم و رواج ہے کہ بیٹا نوکری کر کے پیسے جمع کرکے اپنی شادی کے لیے والدین کے ساتھ رکھتے ہیں آب وراثت کی تقسیم کے دوران کیا مجھے یہ چھ لاکھ روپے علیحدہ ملیں گے یا نہیں؟ ہم پانچ بہنیں اور پانچ بھائی ہیں ہماری ماں زندہ ہیں۔ ہمارے لئے وراثت کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا۔ جب کہ میں نے جو پیسے اپنے ابا کے ساتھ جمع کیے ہیں وہ مجھے علیحدہ ملیں گے یا کل ملا کر ہر ایک کو اس میں بانٹ دیا جائے گا۔ ہمارے ابانے وراثت کی تقسیم کیلئے کوئی وصیت نہیں کی ہے ۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائے ۔

جواب

Fatwa:19-17T/N=2/1442

 (۱): والد صاحب کی حیات میں آپ ماہانہ والد صاحب کو جو پیسے دیتے تھے، آپ والد صاحب کو ان پیسوں کا مالک بنادیتے تھے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی یا گھر کی جس ضرورت میں چاہیں خرچ کریں یا آپ انھیں صرف بہ طور امانت حفاظت کے لیے دیتے تھے؟ اور دونوں میں سے کسی بات کی دلیل یا قرائن کیا ہیں؟ اور جب آپ کی والد صاحب سے ان پیسوں کے سلسلے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی تو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ والد صاحب کا ان پیسوں کے ساتھ معاملہ کیا تھا؟ کیا وہ یہ پیسے جوں کے توں اپنے پاس آپ کے لیے محفوظ رکھتے تھے یا وہ اپنی مرضی سے گھر کی یا اپنی ضروریات میں خرچ کرتے تھے؟ اسی طرح آپ کے علاقے میں جو عرف ورواج ہے ، وہ یہی ہے کہ باپ، بیٹے کی کمائی جوں کی توں بیٹے کے لیے محفوظ رکھتا ہے یا وہ اپنی صواب دید پر اپنی یا گھر کی ضروریات میں خرچ کرتا ہے اور گھر کی ضروریات میں اُس بیٹے کی یا کسی دوسرے بیٹے یا بیٹی کی شادی بھی شامل ہوتی ہے؟

(۲): صورت مسئولہ میں اگر آپ کے والد مرحوم نے اپنے وارثین میں صرف ایک بیوی، ۵/ بیٹے اور ۵/ بیٹیاں چھوڑی ہیں اور مرحوم کے ماں، باپ، دادا، دادی اور نانی کا انتقال مرحوم سے پہلے ہی ہوچکا ہے تو مرحوم کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۱۲۰/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ۱۵/ حصے بیوہ کو، ۱۴، ۱۴/ حصے ہر بیٹے کو اور ۷، ۷/ حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔ تخریج کا نقشہ حسب ذیل ہے:

مسئلہ۸، تص۱۲۰

زوجة =15

ابن=14

ابن=14

ابن=14

ابن=14

ابن=14

بنت =7

بنت =7

بنت =7

بنت =7

بنت =7

(۳):مرحوم کے جن بیٹے بیٹیوں کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے، اُن میں سے ہر ایک کی شادی وغیرہ کا خرچہ اُس مال سے ہوگا، جو اُسے والد مرحوم کے ترکہ سے ملے گا۔ اور اگر کوئی بھائی، اپنی مرضی وخوشی سے ان سب کی یا اُن میں سے بعض کی شادی کا خرچہ برداشت کرے یا اس میں جزوی تعاون کرے تو یہ اُس کی جانب سے تبرع ہوگا۔

(۴): آپ نے اپنے بڑے بھائی کی شادی کے اخراجات میں جو حصہ داری کی تھی، وہ آپ کی جانب سے تبرع تھا، جس کا ثواب آپ کو آخرت میں ملے گا؛ لیکن آپ اس کی وجہ سے زبردستی بڑے بھائی سے چھوٹے بھائی بہنوں کی شادی کے خرچے میں مالی شرکت کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ اور اگر وہ اپنی مرضی وخوشی سے حصہ داری کریں تو اس میں کچھ حرج نہیں ؛ بلکہ اخلاقاً کرنی چاہیے بالخصوص جب کہ وہ صاحب حیثیت بھی ہوں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :179817
تاریخ اجراء :23-Sep-2020

فتوی پرنٹ