1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. جمعہ و عیدین

ایك جگہ خطبہ اور جمعہ كی نماز پڑھانے كے بعد دوسری جگہ جمعہ كا خطبہ پڑھنا؟

سوال

کیا ایک شخص ایک جگہ خطبہ پڑھنے اور نمازجمعہ پڑھانے کے بعد کسی دوسری جگہ خطبہ جمعہ پڑھاسکتاہے ؟قران وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:839-664/L=9/1441


مفتی بہ قول کے مطابق خطیب کا امامت کا اہل ہونا ضروری نہیں ؛اس لیے اگر کوئی ایسا شخص خطبہ دیدے جو جمعہ ادا کرچکا ہو تو بھی اس کا خطبہ معتبر ہوگا اورفی نفسہ نمازدرست ہوجائے گی؛تاہم اولی یہی ہے کہ جو نماز پڑھائے وہی خطبہ دے ؛ کیونکہ فقہاء نے خطبہ اور نماز کو شئی واحد کے حکم میں قرار دیا ہے۔


(مستفاد: فتاوی محمودیہ:/۸ ۲۶۹)۔(لا ینبغی أن یصلی غیر الخطیب) لأنہما کشیء واحد (فإن فعل بأن خطب صبی بإذن السلطان وصلی بالغ جاز) ہو المختار.[الدر المختار) (قولہ ہو المختار) وفی الحجة أنہ لا یجوز، فی فتاوی العصر فإن الخطیب یشترط فیہ أن یصلح للإمامة وفی الظہیریة لو خطب صبی اختلف المشایخ فیہ والخلاف فی صبی یعقل اہ والأکثر علی الجواز إسماعیل(الدر المختار مع رد المحتار: 2/ 162) وفی موضع آخر قال:ولا ینبغی أن یصلی غیر الخطیب لأن الجمعة مع الخطبة کشیء واحد فلا ینبغی أن یقیمہا اثنان وإن فعل جاز اہ وہذا یکون باستخلاف الخطیب، ثم قال أیضا خطب صبی بإذن السلطان وصلی بالغ جاز کذا فی الخلاصة اہ(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 141)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178094
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ