1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. زکاة و صدقات

کیا لاک ڈاؤن کے چلتے غیر مستحقین پریشان حال لوگوں کو بھی زکوٰة و صدقات واجبہ دے سکتے ہیں؟

سوال

کیا لاک ڈاؤن کے چلتے غیر مستحقین کو بھی زکوٰة و صدقات واجبہ دے سکتے ہیں جیسا کہ ابھی کی صورت حال ہے کہ کوئی بھی چیز ملنا مشکل ہے کیونکہ سب کچھ بند ہے لوگ معذور و مجبور ہیں؟ برائے کرم مدلل اور واضح جواب عطا فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 771-623/D=09/1441


زکاة کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ توخذ من اغنیاء ہم فترد علٰی فقراء ہم کہ اغنیاء سے زکاة لے کر فقراء کو ادا کی جائے۔


لہٰذا جنہیں زکاة ادا کی جائے ان کا مستحق زکاة ہونا ضروری ہے یعنی سونا چاندی نقد رقم غیر ضروری اسباب بقدر نصاب ان کی ملکیت میں نہ ہو۔


صورت مسئولہ میں اگر کوئی صاحب نصاب اس طرح مقید و محبوس ہو گیا ہے کہ اپنی مملوکہ رقم کو بھی استعمال نہیں کر سکتا (مثلاً بینک اور اے ٹی ایم کے بند ہونے کی وجہ سے) یا رقم ہے مگر سامان خرید نہیں سکتا تو وہ مثل ابن السبیل کے ہو گیا اسے زکاة کی رقم سے مدد پہونچائی جا سکتی ہے۔ لیکن خود ایسے شخص کے لئے بہتر ہے کہ اگر قرض لے کر کام چلا سکتا ہو تو ایسا کرلے ورنہ اگر زکاة کی رقم یا سامان لینا ہی ناگزیر ہو جائے تو بقدر ضرورت ہی لینے پر اکتفا کرے۔ قال الشامی: وألحق بہ ای بابن السبیل کل من ہو غائب عن مالہ وان کان فی بلدہ ؛ لان الحاجة ہی المعتبرة وقد وجدت ؛ لانہ فقیر یداً وان کان غنیاً ظاہراً ․․․․․․․ وقال فی الفتح ایضا: ولا یحل لہ ای لان السبیل ان یاخذ اکثر من حاجتہ ، والاولٰی لہ أن یستقرض إن قدر۔ (الدر مع الرد: ۳/۲۹۰)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178361
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ