1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. زکاة و صدقات

ٹرسٹ کے لیے دیئے ہوئے زکاة کے مال کو کن کن چیزوں میں خرچ کیا جاسکتاہے؟

سوال

ایک ایسا ٹرسٹ ہے جو مسلمانوں کے دینی و دنیوی کامیابی کے لیے کام کررہا ہے، لوگوں کے لیے تربیتی پروگرام کرتاہے، غیر مسلموں کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنے کے لیے کام کررہا ہے، مسلمانوں میں دینی تربیت ، صحت، تعلیم، اچھے رشتوں کے لیے کام کرررہاہے، لوگوں کے اندر دین پہنچانے کام کررہاہے، تو کیا ان کاموں ک لیے زکاة کے پیسوں کا استعمال کرسکتے ہیں؟ اس میں اکثر پیسہ ہال کے کرائے پر لگتے ہیں، زیادہ سے زیادہ ۔
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 822-604/B=09/1441


آپ کے ٹرسٹ کے مقاصد اچھے ہیں، مگر زکاة کی رقم اس میں نہ لگائی جائے تو بہتر ہے کیونکہ رفاہی کاموں میں بہت سے ایسے کام ہیں جہاں پیسے لگانا زکاة کے جائز نہیں۔ اور چونکہ زکاة کے مسائل بہت باریک ہوتے ہیں تمام لوگ اس کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتے۔ اس لئے زکاة کی رقم صحیح جگہ پر استعمال نہ ہوسکے گی، اس میں زکاة دینے والوں کی زکاة بھی ادا نہ ہوگی۔ اس لئے اس ٹرسٹ میں صرف امدادی پیسے لگائیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178335
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ