1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. نکاح

گوگل پر معلومات كی غرض سے ’’مختار نامہ‘‘ كا لفظ لكھ كر سرچ كرنے سے نكاح كا حكم؟

سوال

سوال: مختار نامہ جو کہ کاروباری و نجی معاملات کے لئے قانونی طور پر استعمال ہوتا ہے جس میں ایک آدمی کسی فیصلے کے متعلق اختیار اپنے کسی باعتماد فرد کو قانونی طور پر دے دیتا ہے اور یہ حق واپس بھی لے سکتا ہے ۔ مختار نامہ کے متعلق محظ انٹرنٹ پر معلومات حاصل کرنے کے لئے گوگل پر مختار نامہ ٹائپ کرنے سے نکاح پر کوئی اثرات مرتب تو نہ ہوں گے جبکہ بندہ کی نیت صرف معلومات کا حصول ہو۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:738-548/N=9/1441


مختار نامہ سے متعلق انٹرنیٹ پر معلومات کے لیے لفظ ’:”مختار نامہ“ لکھ کر سرچ کرنے سے شادی شدہ کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی: گوگل پر بہ طور سرچ ”مختار نامہ“ کا لفظ لکھنے سے شادی شدہ کی بیوی کو یا کسی اور کو طلاق کے سلسلہ میں اختیار حاصل نہیں ہوتا؛ لہٰذا اس طرح کی چیزوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر کسی کو شک ووسوسہ کا مرض ہو تو اُسے علاج کرانا چاہیے؛ ورنہ شک کی بیماری انتہائی پریشان کن ہوتی ہے۔ اللہ تعالی حفاظت فرمائیں۔


مستفاد: لو کرر مسائل الطلاق بحضرتھا ویقول في کل مرة: أنت طالق لم یقع، ولو کتبت: امرأتي أو أنت طالق وقالت لہ: اقرأ علي فقرأ علیھا لم یقع علیھا لعدم قصدھا باللفظ (الأشباہ والنظائر لابن نجیم مع شرح الحموي، ۱: ۸۴، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178356
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ