1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. عورتوں کے مسائل

حیض، نفاس اور ماہواری میں كیا فرق ہے؟

سوال

۱) حیض، نفاذ اور ماہواری میں کیا فرق ہے اور کون سی حالت میں روزہ، نماز اور تلاوت ممنوع ہے ۔ براہ کرم تفصیل سے بیان کریں۔
۲) اور اگر ان کے علاوہ کوئی اور سورت حال ہے تو وہ بھی بیان کریں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 796-80T/B=09/1441


”حیض“ اور ”ماہواری“ دونوں ایک چیز ہے یعنی ہر مہینہ میں عورتوں کو جو ایم سی یعنی ”ماہواری“ کا خون آتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن تک ہوتی ہے اور کم سے کم تین دن کی مدت ہوتی ہے، تو حیض اور ماہواری کی حالت میں عورت ناپاک ہوتی ہے، وہ نماز نہیں پڑھ سکتی ، وہ تلاوت نہیں کر سکتی، وہ روزہ نہیں رکھ سکتی۔ جب ”حیض“ کا خون آنا بند ہو جائے اور غسل کرکے پاک و صاف ہو جائے تو روزہ ، نماز، تلاوت سب کچھ کر سکتی ہے۔


”نفاس“ کا خون وہ کہلاتا ہے جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے اس کے بعد سے عورت کو جو خون آتا ہے اسے ”نفاس“ کا خون کہا جاتا ہے ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار ۴۰/ دن تک ہے، کم از کم مدت کچھ بھی نہیں۔ جب تک ”نفاس“ کا خون عورت کو آتا ہے عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، نہ روزہ رکھ سکتی ہے، نہ ہی قرآن کی تلاوت کر سکتی ہے۔ ہاں خون بند ہونے کے بعد جب وہ غسل کرلے، تو وہ پاک ہو جائے گی، اور نماز ، روزہ ، تلاوت سب کچھ کر سکتی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178196
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ