1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. عورتوں کے مسائل

اگر عدت كے دوران عورت مشت زنی كرلے یا اگر وقفہ وقفہ سے خون آتا ہو تو عدت كی مدت كتنی ہوگی؟

سوال

حضرت میرے دو سوال ہے اگر کسی عورت کو تین طلاق ہو گئی اور وہ عدت گزارے اور وہ عورت عدت کے اندر اس عورت خواہش جاگ اٹھے اور اپنا آپا کھو بیٹھے اور اپنے ہی ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کے اندر انگلی کے ذریعہ سے انزال ہو جائے یعنی اپنے آپ کو فارغ کرلے اور اسی طرح ایک دو بار فون پر جسنے اسکو طلاق دی فون پر اس سے بات کرتے کرتے دونو ہوش کھو بیٹھے اور فون کے ذریعہ دونو کا انزال ہو جائے اور دونو فارغ ہو جائے فون کے ذریعہ ہی تو کیا ایسا کرنے سے اس عورت کی عدت ٹوٹ گئی میرا دوسرا سوال اگر کسی عورت کو تین طلاق ہوئی اورغاس عورت کو حیض بھی آتے ہو لیکن پہلے کسی بیماری کی وجہ سے اس کے ایام آنے بند ہو جائے یعنی کبھی ایک ماہ میں کبھی تین ماہ میں کبھی چار ماہ میں پہلے اسکو حیض ٹائم پر آتے تھے مگر شادی کے بعد بچہ ضائع ہونے کی وجہ اب یہ مسئلہ پیش آتا ہے اس عورت کو طلاق دئے ہوے دو ماہ گزر چکے ہیں مگر ابھی حیض نہیں آیا اور اسنے میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا ہے وہ حمل سے بھی نہیں ہے تو کیا تین ماہ گزرنے کے بعد اس صورت میں اس کی عدت مکمل ہو جائے گی یا اسکو حیض آنے کا انتظار کرنا پڑیگا جواب دیکر مشکور و ممنون فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:841-660/L=9/1441


(۱) عدت کے اندر یا بغیر عدت کے عورت کے لیے اپنے ہاتھ سے ایسا طریقہ اختیار کرنا کہ انزال ہوجائے جائز نہیں ؛تاہم اس کی وجہ سے عدت ٹوٹی نہیں ،عدت برقرار ہے۔


(۲)ایسی عورت کو ماہواری کے اعتبار سے تین ماہواری عدت گزارنا ضروری ہوگا ،تین ماہ کا گزرنا عدت کے مکمل ہونے کے لیے کافی نہ ہوگا ۔


إلا علی أزواجہم، أو ما ملکت أیمانہم-: تحریم ما سوی الأزواج وما ملکت الأیمان.وبین: أن الأزواج وملک الیمین: من الآدمیات دون البہائم. ثم أکدہا، فقال: (فمن ابتغی وراء ذلک: فأولئک ہم العادون) فلا یحل العمل بالذکر، إلا: فی زوجة ، أو فی ملک الیمین . ولا یحل الاستمناء. واللہ أعلم.[أحکام القرآن للشافعی - جمع البیہقی 1/ 195،الناشر : مکتبة الخانجی - القاہرة) (وہی فی) حق (حرة) ولو کتابیة تحت مسلم (تحیض لطلاق) ولو رجعیا (أو فسخ بجمیع أسبابہ) ... (ثلاث حیض کوامل) لعدم تجزی الحیضة.(الدرالمختار:3/504، الناشر: دار الفکر-بیروت)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178135
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ