1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

وراثت كا حصہ معاف كرنے سے معافی قابل اعتبار ہے یا نہیں؟

سوال

سوال کیا فرماتے ہیں حضراتِ مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں ہم ایک بھائی اورچھے بہنیں ہیں والد محترم کی کل جائیداد ایک مکان ہے وہ بھی والد نے اپنی حیات ہی میں میرے نام رجسٹری کرچکے ہیں اس کے کچھ سال بعد انکا انتقال ہوگیا انتقال کے بعد میں سب بہنوں کوبلاکر یہ بتادیاکہ والد نے ایساایسا کیاہے جوکہ والد نے شرعاً غلط کیاہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ والد مرحوم کی آخرت میں پکڑ نہ ہوجائے اس لئے اگرتمام بہنیں حصہ لینا چاہوں تو میں دینے کو تیار ہوں لیکن اس وقت سب نے بیگ زبان کھاہم سب نے معاف کر دیا اس وقت مکان کی قیمت ڈیڑھ لاکھ تھی اب اس کی قیمت چھے لاکھ ہے اب مجھے پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح معاف کرنے سے معافی قابل اعتبارہے یا نہیں اگر نہیں تو پھر معافی کی کیا صورت ہوگی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں آ مین۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:838-663/L=9/1441


مذکورہ بالاصورت میں اگرآپ کے والد نے محض مکان آپ کے نام کرایاتھا باضابطہ ہبہ کرکے اس کا مالک وقابض آپ کو نہیں بنایا تھا تو محض رجسٹری کرانے سے ہبہ تام نہیں ہوااور آپ اس مکان کے مالک نہیں ہوئے ،ایسی صورت میں آپ کے والد کی وفات کے بعد اس مکان کی تقسیم حسب شرع تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصص کے اعتبار سے ہوگی،اور آپ کی بہنوں کا زبانی معاف کردینا معتبر نہیں ؛البتہ اگر آپ ترکہ تقسیم کرکے ہر بہن کو اس کا حصہ دیدیں اس کے بعد جوکوئی بہن بخوشی اپنا حصہ آپ کو دیدے تو اس کے لینے کی گنجائش ہوگی۔


وتتم الہبة بالقبض الکامل (الدرالمختارمع رد المحتار:/۸ 493ط زکریا دیوبند) لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَکْتُ حَقِّی لَمْ یَبْطُلْ حَقُّہُ؛ إذْ الْمِلْکُ لَا یَبْطُلُ بِالتَّرْک(الأشباہ)قولہ: لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملک أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لأنہ لازم لا یترک بالترک بل إن کان عینا فلا بد من التملیک وإن کان دینا فلا بد من الإبراء.[غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ والنظائر 3/ 354)


نوٹ:آپ کے والد صاحب کی وفات کے وقت ان کے والدین،دادا دادی نانی یا آپ کی والدہ میں سے جو بھی حیات رہاہو اس کی تفصیل لکھ کر بھیجی جائے تو ان شاء اللہ حسبِ شرع ترکہ کی تقسیم کردی جائے گی ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :178087
تاریخ اجراء :May 14, 2020

PDF ڈاؤن لوڈ