1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. اسلامی عقائد

شادی شدہ مرد کے لئے شب بیداری کی کیا نوعیت ہونی چاہیے؟

سوال

عرض ہے کہ سائل شادی شدہ ہے اور دو بچے بھی ہیں،دن کی مشغولیات کے بعد رات کو جب زوجہ کے ساتھ خلوت کے وقت کبھی کھبار دل میں شوق پیدا ہوتا کہ تنہا ہو کے اپنے رب کے سامنے گریہ و زاری کروں مگر فیصلہ نہیں کر پاتا ہوں کہ زوجہ کو چھوڈ کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں یا پھر زوجہ کا حق ادا کروں۔مہربانی کر کے مسئلہ کے حوالہ سے صحیح رہنمائی فرماویں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:889-780/L=8/1440
شریعت نے اس معاملہ میں اعتدال کو پسند کیا ہے ،آدمی کو یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے پوری رات عبادت میں گزارے اور نہ یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے پوری رات سوتا رہے ؛بلکہ رات کو تقسیم کرلینا چاہیے اس طور پر کہ نہ تو حق اللہ ضائع ہو اور نہ حقِ زوجہ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ ابتدائے شب میں آرام فرمانے اور اخیر شب میں اٹھ کر عبادت فرمانے کی تھی ؛لہذا اسی کے مطابق ہم سب کو زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے ،اور اپنی زندگیوں کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے؛البتہ اگر کبھی عبادت کا غلبہ ہو اور آدمی اس کے مطابق عمل کرلے تو مضائقہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169932
تاریخ اجراء :May 1, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ