1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

مدت کے اعتبار سے نفع کی شرح بڑھانا؟

سوال

مدت کے اعتبار سے نفع کی شرح بڑھانا؟

جواب

Fatwa : 93-108/D=03/1442

 مذکورہ بینک سیمنٹ اسٹیل وغیرہ اگر خود خرید کر اپنے قبضہ میں لے کر سرکاری ملازمین کے ہاتھ خرید کردہ قیمت پر کچھ اضافہ کرکے فروخت کرتا ہے تو اس طرح فروخت کرنا اور قسطوں میں رقم وصول کرنا جائز ہے لیکن صورت مسئولہ میں مدت کے اعتبار سے جو نفع کی شرح بڑھائی جا رہی ہے یہ سود ہے جو کہ ناجائز ہے۔

جب معاملہ کرتے وقت ادائیگی کی مدت ایک سال یا دو سال حتمی طور پر طے کرلی جائے اور سامانوں پر اپنا نفع متعین کرکے لیا جائے وہی صورت جائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600964
تاریخ اجراء :14-Nov-2020

فتوی پرنٹ