1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

سودی قرض كا فارم پر كرنا؟

سوال

میں ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کر رہا ہوں۔ یہاں میری ڈیوٹی ایک سال سے اکاؤنٹ برانچ میں لگائی گئی ہے ۔ ہمارے پاس باقی سب کام تو شرحی ہیں جیسے ملازمین کی تنخواہ کے بل بنانا، ریٹائرمنٹ اور دیگر بل تیار کرنا۔ مگر کبھی کبھار کچھ ملازمین ایسے بھی آتے ہیں جو بینک سے ایڈوانس تنخواہ نکلواتے ہیں جو بینک سود کے ساتھ قسطوں میں واپس لیتا ہے ۔ ہمارے ذمہ داری یہ ہوتی ہے کے انکے فارم فل کر کے ملازم کو دینے ہتے ہیں۔ اور وہی آفسر سے سائن کرواکے بینک میں جمع کرواتا ہے ۔ اول تو ہماری کوشش ہوتی ہے کے ملازم کو قائل کریں کہ وہ یہ سود پہ قرض نہ لے ۔ انھیں پہلے والے لوگوں سے ملواتے ہیں جنھوں نے سود پہ قرض لیا تو پھر سود کی ادائیگی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ملازم اس پر راضی ہوتے ہیں اور درخواست واپس لے لیتے ہیں ۔ مگر کچھ نہٰیں مانتے مجبوراََ ہمیں انکا فارم فل کرنا پڑتا ہے ۔ اس فارم میں ہم یہ لکھتے ہیں کے اسکا جی پی فنڈ، پنشن ، بنولا فنڈ، انشورنس اتنا ہے اور ملازمت کی تفصیلات ،آخری تنخواہ اور بینک کو سرٹیہفیکیٹ کے ملازم ہمارے محکہ کا ہے اور اتنے عرصہ سے ملازمت کر رہا ہے اور بیان حلفی کے ملازم اقساط بینک کو جمع کرائے گا۔ ہم نے یہ ساری تفصیلات لکھنی ہوتی ہیں اور ملازم کے حوالے کرتے ہیں وہ خود سائن کرتا ہے اور آفسر سے سائن کروا کر بینک میں جمع کرواتا ہے ۔ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایسا فارم فل کرنا جائز ہے ، کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ سود کے کام کو لکھنا بھی گناہ ہے ۔ جبکہ ہماری یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے دیگر کاموں کے علاوہ یہ بھی کام بادل نخواستہ کرنا پڑتا ہے ایسے کیس سال میں ایک یا دو ہی آتے ہیں۔

جواب

Fatwa:161-111/sd=3/1442

 مذکورہ فارم میں سود سے متعلق تو تفصیلات نہیں لکھی جاتی ہیں؛ البتہ اس فارم کی بنیاد پر ملازم کو سودی قرض ملتا ہے ، لہذا سودی معاملہ میں کسی درجے معاونت پائی جارہی ہے ، تاہم ایسا معاملہ سال میں ایک یا دو دفعہ ہی پیش آتا ہے ، اس لیے آپ تھوڑی بہت رقم صدقہ کردیا کریں، انشاء اللہ آپ کی آمدنی حلال رہے گی۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600820
تاریخ اجراء :04-Nov-2020

فتوی پرنٹ