1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

كسی نے میری دكان سے سامان خریدا پیسے ادا كردیے اور سامان دكان پر ہی بھول گیا

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میری دکان سے کسی نے کچھ سامان خریدا اور پیسہ مجھے دیدیا اور وہ سامان دکان پر ہی بھول گیا ، اب میں کتنے دن اس کا انتظار کروں اور اس سامان کا کیا کروں؟ کیوں کہ نہ میں اس کو جانتاہوں نہ اس کا کوئی پتا میرے پاس ہے جو میں اس تک پہنچا سکوں؟

جواب

Fatwa : 122-99/D=03/1442

 (۱) امکانی حد تک اس شخص کے بارے میں تحقیق و جستجو رکھیں جب پتہ لگ جائے تو سامان اس کے حوالہ کردیں۔

(۲) آپ اس شخص کو ثواب پہونچانے کی نیت سے اس کی طرف سے صدقہ کردیں یعنی کسی غریب کو دیدیں اور اگر خود غریب ہوں تو اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں لیکن ان دونوں صورتوں میں یعنی کسی غریب کو دیں یا خود استعمال کریں اگر کبھی اس شخص کا پتہ چل گیا تو اسے صورت حال بتلادیں اگر وہ اس صدقہ کو پسند و منظور کرے تو بہت اچھا ہے ورنہ اگر وہ اپنا سامان مانگے تو پھر آپ کو دینا پڑے گا۔

قال فی الدر: وعرف أي نادیٰ علیہا حیث وجدہا وفي المجامع الیٰ أن علم أن صاحبہا لا یطلبہا قال الشامی لم یجعل للتعریف مدة اتباعاً للسرخسي فإنہ بنی الحکم علی غالب الرأي، فیعرف القلیل والکثیر إلي أن یغلب علی رأیہ أن صاحبہ لا یطلبہ صححہ في الہدایة وفي المضمرات والجوہرة وعلیہ الفتویٰ، ج: ۶/۴۳۶، الدر مع الرد ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600829
تاریخ اجراء :14-Nov-2020

فتوی پرنٹ