1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

استخارہ کن معامعلات میں کرنا چاہیے؟

سوال

استخارہ کے بارے میں کچھ معلومات دے اور احادیث سے ثابت ہے کہ نہیں اور کن معامعلات میں کرنے چاہئیں اس کا طریقہ بھی بتا دیں اور کسی دن کرنے چاہئے اور خواب نہ اس میں خرج تو نہیں اگر خواب دیکھے پھر کس کو خواب بتایا کہ نہیں کس طرح کرنے چاہئیں۔

جواب

Fatwa : 169-206/B=03/1442

 دینی یا دنیاوی کسی اہم معاملہ میں استخارہ کرنا ایک امر مستحب ہے، اور بلاشبہ حدیث سے ثابت ہے۔ استخارہ کرنا واجب و ضروری نہیں ہے۔ استخارہ وہ شخص کرے جو دیندار ، متقی ، پرہیزگارہو، دنیادار نہ ہو۔ دنیاوی امور کی محبت اس کے دل میں نہ ہو، تو اس کا استخارہ سود مند ہوگا۔ استخارہ کے لئے دن و تاریخ کوئی متعین نہیں۔ اگر خواب نظر نہیں آیا یا نظر آیا مگر کسی کی طرف رجحان نہ ہوا تو دوسرے تیسرے دن بھی کرے۔ اگر کسی طرف رجحان نہ ہوا تو اہل مشورہ سے مشورہ کرکے وہ کام کرے۔ استخارہ کا طریقہ بہشتی زیور میں لکھا ہوا ہے اور دعا بھی ساتھ میں لکھی ہوئی ہے اسے دیکھ لیں، اس کے مطابق استخارہ کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600469
تاریخ اجراء :14-Nov-2020

فتوی پرنٹ