1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

پروپرٹی كس طرح تقسیم كرنی چاہیے؟

سوال

والد صاحب نے والدہ کو یہ پروپرٹی گفٹ کی تھی جب کہ ہم اس میں رہ رہے تھے، ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، بہت پہلے والد صاحب کا انتقال ہوگیاہے، والد صاحب کے انتقال کے ایک سال بعد بڑے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا، اور میری بھابی نے کسی دوسرے مرد سے شادی کرلی، والدہ اور بہنیں میرے ساتھ رہ رہی تھیں، میں نے بہنوں کی شادی کرائی اور والدہ میرے ساتھ رہتی ہیں، والد صاحب سرکاری ملازم تھے ، ان کے انتقال کے بعد میرے بھائی کو والد صاحب کی ملازمت ملی تھی، اور بھائی کے انتقال کے بعد ان کی بیوی کو یہ ملازمت ملی ہے، بھائی کا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، (سبھی کی شادی ہوچکی ہے)میری تین بیٹی اور دو بیٹے ہیں (ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی شادی ہوچکی ہے)، والدہ حیات ہیں، والدہ اس پروپرٹی کو بیچنا چاہتی ہیں جسے والد صاحب نے انہیں گفٹ کی تھی، والدہ اس پروپرٹی کو بیچ کر سارا پیسہ مجھے دینا چاہتی ہیں، اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں شریعت کی کہتی ہے؟ کیا اس رقم کو تقسیم کرنا چاہئے یا اس میں والدہ کی مرضی کا اعتبار ہے؟بھائی کی فیملی کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ کیا ان کو کوئی حصہ ملے گا؟

جواب

Fatwa : 277-32T/B=03/1442

 آپ کے والد مرحوم نے جو پراپرٹی والدہ محترمہ کو بطور گفٹ (ہبہ) دی تھی، والدہ تنہا اس کی مالک و مختار ہیں۔ اس پراپرٹی کو فروخت کرکے جس کو جتنا چاہیں دے سکتی ہیں۔ لیکن حدیث شریف میں آیا ہے کہ حالت حیات میں والدہ کے لئے افضل یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کو برابر برابر حصہ دیدیں، یعنی ایک بیٹا اور دو بیٹی حیات ہیں تو پراپرٹی فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت تین برابر حصوں میں کرکے ایک حصہ بیٹے کو اور ایک ایک حصہ دونوں بیٹیوں کو دیدیں۔ حدیث شریف میں ہے سَوّوا بین اولادکم فی العطیة ۔ یعنی اپنی اولاد کو عطیہ دینے میں برابری اختیار کرو۔ اور اس کی بھی گنجائش ہے کہ بیٹے نے زیادہ خدمت والدہ کی کی ہے تو اسے کچھ زیادہ دیدے لیکن ساری پراپرٹی کی قیمت صرف ایک بیٹے کو دے دینا اور لڑکیوں کو محروم کردینا درست نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600877
تاریخ اجراء :07-Nov-2020

فتوی پرنٹ