1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

والد ، والدہ ، دو بھائی ، ایک بہن اور ایک بیوہ كے درمیان جائیداد كی تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید تقریبا چار ماہ قبل وفات پا گیا ہے اس نے ایک دکان کرایہ پر لی تھی جس کے لئے 24 لاکھ کی رقم خاص اپنی ملکیت سے ادا کی تھی ان 24 لاکھ میں سے 20 لاکھ قابل واپسی ہے واضح رہے کہ یہ دوکان مرحوم کے والد کے نام تھی اور مرحوم کہتا تھا کہ یہ دوکان والد کی ہے ۔اس کے علاوہ 12 مرلہ کا ایک پلاٹ ہے جس کے بارے میں مرحوم نے مرض وفات سے قبل وصیت کی تھی کہ 6 مرلہ پر مسجد تعمیر کریں اور باقی 6 مرلہ کے بارے میں والدہ کو کہا تھا کہ آپ اپنا گھر تعمیر کرلیں ۔اور واضح رہے کہ پلاٹ خریدتے وقت کاغذات میں والد کو وارث نامزد کیا گیا تھا ۔بیوی کو بطور حق مہر 6 تولہ سونا اور بطورِ منہ دکھائی ایک تولہ سونا دیا اور تقریبا سات تولہ سونا پہننے کے لئے بیوی کو دیا جیسا کہ رواج کے مطابق سسرال والے بہو کو سونا پہناتے ہیں ۔ایک عدد گاڑی مرحوم نے وراثت میں چھوڑی جسے چھوٹے بھائی نے 28 لاکھ روپے کے عوض خرید لیا اور یہ رقم ادائیگی قرض میں لگا دی گئی ۔اس کے علاوہ میت کے ذمہ جتنا بھی قرض تھا وہ میت کے بینک بیلنس سے ادا کر دیا گیا ہے اب بینک میں میت کی کوئی رقم باقی نہیں ہے ۔نامعلوم لوگوں سے تقریبا پندرہ لاکھ روپیہ قرض وصول بھی کرنا ہے مگر زید کو فوت ہوئے تقریبا چار ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا لہذا یہ رقم ملنے کی امید بھی نہیں ہے ۔میت کی کوئی اولاد نہیں ہے وارثوں میں والد ، والدہ ، دو بھائی ، ایک بہن اور ایک بیوہ ہے ۔طریقہ شریعت کے مطابق تقسیم وراثت کے احکامات بتلا دیجئے ۔اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ جزاک اللہ خیرا ۔

جواب

Fatwa:165-110/sd=3/1442

 صورت مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث و عدم موانع ارث بارہ حصوں میں تقسیم ہوگا ، جس میں سے بیوی کو تین حصے ، والدہ کو دو حصے اور والد کو سات حصے ملیں گے ، بھائی بہن محروم ہوں گے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600828
تاریخ اجراء :04-Nov-2020

فتوی پرنٹ